ایڈز بیٹی ملنے میں رکاوٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست راجستھان کی ایک عدالت نے ایک خاتون کو اس کی بیٹی سوپنے سے اس لیے انکار کر دیا کیوں کہ وہ ایڈز کی مریض ہے اور اپنی بیٹی کی پرورش کرنے کے لیے قابل نہیں ہے۔ مریضہ نے عدالت کے فیصلے کو اعلی عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ در اصل یہ خاتون ایک فوجی کی بیوہ ہیں۔ان کے شوہر ایڈز کے مریض تھے۔شوہر کی موت کے بعد سسرال والوں نے انہیں گھر سے نکال دیا تھا ۔اس کے علاوہ ان کی نو سال کی بیٹی کو بھی اسے دینے سے انکار کر دیا۔ ریکھا (بدلا ہوا نام ) نے جب عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو عدالت نے یہ کہہ کر اس کی درخواست مسترد کر دی کہ ایک ایڈز کی مریضہ اپنی بیٹی کی صحیح طریقہ سے دیکھ بھال نہیں کر سکے گی۔ اس کے علاوہ عدالت نے سماعت کے دوران خاتون کا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کو بھی مسترد کر دیا۔ فیصلے کے خلاف ریکھا نے ضلعی عدالت میں اپیل دائر کی ہے کہ ایڈز کے مریض کی شناخت ظاہر کرنا سپریم کورٹ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ ریکھا کے وکیل اے کے جین کہتے ہیں کہ ایسے معاملے میں کوئی بھی مریض کا نام ظاہر کرتا ہے تو وہ توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ ریکھا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو اس کا حق دلانا چاہتی ہیں۔ راجستھان میں ایڈز کے مریضوں کے لیے کام کرنے والی سشیلا کہتی ہیں ان کے پاس ایسی تین سو عورتوں ہیں، ان عورتوں کو بہت برے سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سشیلا کا کہنا ہے کہ ان ميں زیادہ تر پڑھی لکھی نہیں ہیں ان انہيں اپنے حقوق کے بارے میں پتہ بھی نہیں ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر، فوج اور ایڈز کا خطرہ01 December, 2006 | انڈیا بھارت:ایڈز متاثرین کی تعداد پرشبہ09 June, 2007 | انڈیا انڈیا: ایڈز کے مریض کم ہو گئے06 July, 2007 | انڈیا بہار: ایڈز کے مریضوں کی مشکل13 August, 2007 | انڈیا بِہار ایڈز:’مریضوں میں باون فیصد اضافہ‘23 May, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||