دو سو باغی سپاہی’گرفتار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے دو روزہ بغاوت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش رائفلز کے دو سو سپاہیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ بنگلہ دیش کی سریع الحرکت بٹالین کے ترجمان کمانڈر عبدالکلام آزاد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ انہیں ’باغیوں‘ کی گرفتاری کے احکامات دیے گئے تھے۔ ترجمان کے مطابق بنگلہ دیش رائفلز کے متعدد سپاہی اپنا ہیڈکوارٹر چھوڑ کر عام شہریوں کے بھیس میں فرار ہو گئے ہیں جس کے بعد ڈھاکہ کے داخلی و خارجی راستوں اور بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈکوارٹر کے آس پاس تلاشی کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم باغی فوجیوں کو ڈھونڈنے کے لیے بسوں اور ٹرکوں کی تلاشی لے رہے ہیں‘۔ ممکنہ طور پر تنخواہوں کے معاملے پر بدھ سے شروع ہونے والی یہ بغاوت جمعرات کو اس وقت ختم ہوگئی تھی جب ٹینکوں کے محاصرے اور وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی سخت تنبیہ کے بعد بنگلہ دیش رائفلز کے باغی سپاہیوں نے ہتھیار ڈالنے اور یرغمال بنائے گئے افراد کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس بغاوت کے دوران بیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ بنگلہ دیشی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ بغاوت اب بالکل ختم ہوگئی ہے جبکہ باغیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے نو فوجی جوانوں کی لاشیں بھی برآمد کر لی گئی ہیں جبکہ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فوج کے سو سے زائد افسر اب بھی لاپتہ ہیں۔ خیال رہے کہ بنگلہ دیش رائفلز کے ستّر ہزار جوان ملک بھر میں قائم بیالیس کیمپوں میں تعینات ہیں جبکہ چالیس ہزار سپاہی ملک کی سرحدوں پر تعینات ہیں اور ان سپاہیوں کی ماہانہ تنخواہ ستّر ڈالر کے قریب ہے جو کہ ایک نچلے درجے کے کلرک کے مساوی ہے۔ |
اسی بارے میں بنگلہ دیش: سپاہیوں کی بغاوت ختم26 February, 2009 | آس پاس باغی سپاہیوں کو حسینہ کی تنبیہ26 February, 2009 | آس پاس بنگلہ دیش: پچاس ہلاکتوں کا خدشہ26 February, 2009 | آس پاس شیخ حسینہ دوسری بار وزیرِ اعظم06 January, 2009 | آس پاس بنگلہ دیش:بھاری حمایت سےحکومت کا آغاز06 January, 2009 | آس پاس عوامی لیگ کی ’ناقابلِ یقین‘ فتح30 December, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش میں ووٹنگ مکمل 29 December, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش میں ایمرجنسی کا خاتمہ17 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||