BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 February, 2009, 03:22 GMT 08:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش: پچاس ہلاکتوں کا خدشہ
بنگلہ دیش فوج
ہزاروں فوجیوں اور پولیس کو بیرکوں کے باہر تعینات کر دیا گیا تھا
بنگلہ دیش میں سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار بنگلہ دیش رائفلز کی مسلح بغاوت کے بعد کم و بیش پچاس افراد کے ہلاک ہو جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

قانون اور پارلیمانی امور کے وزیر محمد قمر الاسلام نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ واقعہ میں تقریباً پچاس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مزید اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جانب سے بنگلہ دیش رائفلز کے بغاوت کرنے والے سپاہیوں کو عام معافی کے اعلان کے بعد سے باغیوں نے ہتھیار ڈالنا اور عورتوں اور بچوں کو رہا کرنا شروع کر دیا ہے۔

وزیر اعظم نے باغی افراد سے وعدہ بھی کیا کہ ان کے مطالبات پر غور کیا جائے گا۔

باغیوں نے کہا تھا کہ وہ عام معافی کے بدلے اپنے ہتھیار ڈال دیں گے اور یرغمال بنائے گئے فوجی افسروں کو رہا کر دیں گے۔ معاہدہ وزیر اعظم اور باغی افراد کے ایک چودہ رکنی وفد کے درمیان مذاکرات کے بعد طے پایا۔ مقامی میڈیا اس بغاوت کی وجہ جوانوں کی تنخواہوں اور کام کرنے کے ماحول سے بے اطمینانی بتا رہا ہے۔

اس سے پہلے ڈھاکہ کے مرکز میں واقع بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈکواٹر میں فوج اور باغی جوانوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جس میں ایک شخص ہلاک اور کئی افراد زخمی ہوئے تھے۔

باغیوں نے بدھ کی صبح ڈھاکہ کے علاقے پِلکھنہ میں فوجی بیرکوں پر قبضہ کر لیا تھا اور مبینہ طور پر ایک سو سے زیادہ لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ بغاوت کو کچلنے کے لئیے ہزاروں کی تعداد میں پولیس کے جوانوں اور فوجیوں کو بیرکوں کے باہر تعینات کر دیا گیا تھا۔ فوج اور باغیوں کے درمیان شدید گولہ باری کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔

گولہ باری کے تبادلے میں کئی راہگیر زخمی ہو گئے

دونوں اطراف میں گولہ باری کے تبادلے میں کئی راہگیر زخمی ہوگئے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ اس دوران کتنے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

ابھی تک اس بارے میں بھی کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں کہ یرغمال بنائے جانے والے افراد کا کیا ہوا۔

بدھ کی صبح ہنگامہ شروع ہونے کے بعد بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈمّٹ جائے وقوع پر موجود تھے اور ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا کوئی اشارہ نہيں ملا کہ حکومت کے تختہ پلٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نامہ نگار کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ تنخواہوں پر شروع ہونے والا ایک تنازعہ اس قدر جلدی اتنی شدت اختیار کر سکتا ہے۔

ایک دن قبل ہی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے اس ہیڈکواٹر کا دورہ کیا تھا اور کچھ جوانوں کو میڈل دیے تھے۔

اسی بارے میں
بنگلہ دیش میں ووٹنگ مکمل
29 December, 2008 | آس پاس
بنگلہ دیش میں بھی تاج محل
10 December, 2008 | آس پاس
شیخ حسینہ کی ڈھاکہ واپسی
06 November, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد