بنگلہ دیش: پچاس ہلاکتوں کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار بنگلہ دیش رائفلز کی مسلح بغاوت کے بعد کم و بیش پچاس افراد کے ہلاک ہو جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ قانون اور پارلیمانی امور کے وزیر محمد قمر الاسلام نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ واقعہ میں تقریباً پچاس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مزید اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جانب سے بنگلہ دیش رائفلز کے بغاوت کرنے والے سپاہیوں کو عام معافی کے اعلان کے بعد سے باغیوں نے ہتھیار ڈالنا اور عورتوں اور بچوں کو رہا کرنا شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نے باغی افراد سے وعدہ بھی کیا کہ ان کے مطالبات پر غور کیا جائے گا۔ باغیوں نے کہا تھا کہ وہ عام معافی کے بدلے اپنے ہتھیار ڈال دیں گے اور یرغمال بنائے گئے فوجی افسروں کو رہا کر دیں گے۔ معاہدہ وزیر اعظم اور باغی افراد کے ایک چودہ رکنی وفد کے درمیان مذاکرات کے بعد طے پایا۔ مقامی میڈیا اس بغاوت کی وجہ جوانوں کی تنخواہوں اور کام کرنے کے ماحول سے بے اطمینانی بتا رہا ہے۔ اس سے پہلے ڈھاکہ کے مرکز میں واقع بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈکواٹر میں فوج اور باغی جوانوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جس میں ایک شخص ہلاک اور کئی افراد زخمی ہوئے تھے۔ باغیوں نے بدھ کی صبح ڈھاکہ کے علاقے پِلکھنہ میں فوجی بیرکوں پر قبضہ کر لیا تھا اور مبینہ طور پر ایک سو سے زیادہ لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ بغاوت کو کچلنے کے لئیے ہزاروں کی تعداد میں پولیس کے جوانوں اور فوجیوں کو بیرکوں کے باہر تعینات کر دیا گیا تھا۔ فوج اور باغیوں کے درمیان شدید گولہ باری کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔
دونوں اطراف میں گولہ باری کے تبادلے میں کئی راہگیر زخمی ہوگئے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ اس دوران کتنے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ ابھی تک اس بارے میں بھی کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں کہ یرغمال بنائے جانے والے افراد کا کیا ہوا۔ بدھ کی صبح ہنگامہ شروع ہونے کے بعد بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈمّٹ جائے وقوع پر موجود تھے اور ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا کوئی اشارہ نہيں ملا کہ حکومت کے تختہ پلٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نامہ نگار کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ تنخواہوں پر شروع ہونے والا ایک تنازعہ اس قدر جلدی اتنی شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ایک دن قبل ہی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے اس ہیڈکواٹر کا دورہ کیا تھا اور کچھ جوانوں کو میڈل دیے تھے۔ | اسی بارے میں شیخ حسینہ دوسری بار وزیرِ اعظم06 January, 2009 | آس پاس بنگلہ دیش:بھاری حمایت سےحکومت کا آغاز06 January, 2009 | آس پاس عوامی لیگ کی ’ناقابلِ یقین‘ فتح30 December, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش میں ووٹنگ مکمل 29 December, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش میں ایمرجنسی کا خاتمہ17 December, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش میں بھی تاج محل10 December, 2008 | آس پاس شیخ حسینہ کی ڈھاکہ واپسی06 November, 2008 | آس پاس حرکت الجہاد بنگلہ دیش پر کڑی نظر07 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||