BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 January, 2009, 02:24 GMT 07:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش:بھاری حمایت سےحکومت کا آغاز

حسینہ
بنگلہ دیش میں گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ ملک کی سیاست پر چھائی دو بیگمات کی روائیتی دشمنی دیکھتے ہوئے ملک کے سیاسی مستقبل کے بارے میں ابھی کوئی بھی بلند بانگ پیشنگوئی کرنا قبل از وقت ہوگا
فوجی انقلابوں اور دھاندلی کے الزامات سے آلودہ کئی انتخابات پر مبنی بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ میں حالیہ پارلیمانی انتخابات کو کئی لحاظ سے اچھوتا کہا جاسکتا ہے۔

ان انتخابات میں شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ نے تین سو پارلیمانی نشستوں میں سے دو سو تیس جبکہ بیگم خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی یا بی این پی کو محض انتیس نشستیں مل سکیں۔ بی این پی کی حلیف مذہبی جماعت جماعت اسلامی صرف دو نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔

کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ فوج کی حمایت یافتہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت تھی جس کی وجہ سے نہ صرف یہ انتخابات شفاف اور ایماندارانہ ہوئے بلکہ عوام نے اپنا حق رائے دہی نسبتاً پرسکون اور پرامن ماحول میں ادا کیا۔

بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ پر اگر ایک نظر ڈالی جائے تو انیس سو پچھتر کے فوجی انقلاب کے بعد مجیب الرحمٰن کو ان کے پورے خاندان کے ساتھ ہلاک کردیا گیا تھا اور شیخ حسینہ اور ان کی بہن شیخ ریحانہ جرمنی میں ہونے کی وجہ سے بچ گئیں تھیں۔

اس بغاوت کے تین ماہ کے دوران کئی مرتبہ حکومت کے تختے الٹے گئے اور آخر کا جنرل ضیاء الرحمن اقتدار میں آئے جنہوں نے اپنی سیاسی جماعت بنگلہ دیش نیشل پارٹی کی بنیاد رکھتے ہوئے ملک میں ایک مرتبہ پھر کئی سیاسی پارٹیوں پر مبنی سیاسی سفر کا آغاز کیا۔

بیگم خالدہ ضیاء
جنرل ضیاء الرحمان کو انیس سو اکیاسی میں کچھ فوجی عناصر نے قتل کردیا۔ ان کے بعد بنگلہ دیش کے اہم حکمران جنرل حسین محمد ارشاد تھے جو انیس سو بیاسی میں بغیر کسی خونی انقلاب کے اقتدار میں آگئے اور پھر انیس سو نوے میں انہیں عالمی امداد دینے والے اداروں کے دباؤ کے تحت اقتدار چھوڑنا پڑا۔

تب سے بنگلہ دیش دوبارہ پارلیمانی جمہوریت کے دور میں داخل ہوا اور جنرل ضیاء الرحمان کی بیوہ خالدہ ضیاء بی این پی کی قیادت کرتی ہوئی انیس سو اکیانوے کے عام انتخابات جیت کر ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ اس کے بعد انیس سو چھیانوے کے انتخابات عوامی لیگ نے جیتے اور پارٹی رہنماء اور مجیب الرحمان کی بیٹی شیخ حسینہ وزیر اعظم بنیں لیکن دو ہزار ایک میں ہونے والے عام انتخابات میں ہار کر انہیں وزرات عظمیٰ دوبارہ خالدہ ضیاء کے حوالے کرنا پڑی۔

جب خالدہ ضیاء کی بی این پی کی حکومت نے اکتوبر دو ہزار چھ میں اپنی آئینی مدت پوری کی تو نہ صرف اُن کی حکومت کو بدعنوانی کے الزامات کا سامنا تھا بلکہ ملک میں ایسے پرتشدد واقعات کا سلسلہ بھی جاری تھا جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہوچکے تھے۔

بیگمات کی سیاست
 بنگلہ دیش دوبارہ پارلیمانی جمہوریت کے دور میں داخل ہوا اور جنرل ضیاء الرحمان کی بیوہ خالدہ ضیاء بی این پی کی قیادت کرتی ہوئی انیس سو اکیانوے کے عام انتخابات جیت کر ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ اس کے بعد انیس سو چھیانوے کے انتخابات عوامی لیگ نے جیتے اور پارٹی رہنماء اور مجیب الرحمان کی بیٹی شیخ حسینہ وزیر اعظم بنیں لیکن دو ہزار ایک میں ہونے والے عام انتخابات میں ہار کر انہیں وزرات عظمیٰ دوبارہ خالدہ ضیاء کے حوالے کرنا پڑی
ادھرعوامی لیگ کی شیخ حسینہ کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی اگلے سال یعنی جنوری دو ہزار سات میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی۔ شیخ حسینہ نے انتخابات میں عبوری حکومت کا وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی حکومت کی طرفداری کرنے کا اندیشہ ظاہر تھا۔

شیخ حسینہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انتخابی فہرستوں کی کئی سالوں سے نظر ثانی بھی نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے شفاف انتخابات ممکن نہ ہوسکیں گے۔
یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ بنگلہ دیش کے آئین کے تحت حکومت اپنی میعاد پوری کرنے کے بعد مستعفی ہوجاتی ہے اور پھر انتخابات ایک غیر جانبدار عبوری حکومت اپنی نگرانی میں منعقد کرواتی ہے۔

اِن تمام حالات کے پس منظر میں بظاہر امن و امان کی صورتحال کو درست کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے عبوری حکومت نےگیارہ جنوری دو ہزار سات کو ملک میں ایمرجینسی نافذ کردی۔ اِس ایمرجینسی کے دوران جہاں سیاسی جماعتوں اور مزدور یونینوں کو مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تو وہاں ذرائع اِبلاغ بھی سینسر کی قینچی سے آزاد نہ رہ سکے۔

اِس دوران بدعنوانی کے الزام میں بڑی تعداد میں گرفتاریاں بھی ہوئیں جن میں سیاست داں، کاروباری شخصیات اور سرکاری ملازمین شامل تھے۔ ان گرفتار ہونے والوں میں انیس سو اکیانوے سے باری باری اقتدار میں رہنے والی ایک دوسرے کی روایتی حریف بیگمات یعنی خالدہ ضیاء اور شیخ حسینہ بھی شامل تھیں۔

ملک میں نافذ ایمرجنسی کے اختیارات سے لیس عبوری حکومت بنگلہ دیش کی سیاست سے ان دو بیگمات کو ہیمیشہ کے لیے خارج کردینے کی اپنی تمام ترکوششوں کے باوجود کامیاب نہ ہوسکی۔ پھر ملک سے ہمیشہ کے لئے بدعنوانی ختم کردینے کا دعوی کرنے والی فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت کو احساس ہوا کہ ایسا عملی طور پر کرنا سوچنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔

ارباب اقتدار کا فیصلہ
 آخر کار اِس حکومت کے ارباب اختیار نے فیصلہ کیا کہ ایک شفاف اور کامیاب انتخابات کے ذریعے انتقال اقتدار کے علاوہ عوام میں مقبولیت کھوتی عبوری حکومت کے پاس اب اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے اور بغیر ان دو بیگمات کی شمولیت کے انتخابات کو مستند قرار دینا خاصہ مشکل ہوگا
آخر کار اِس حکومت کے ارباب اختیار نے فیصلہ کیا کہ ایک شفاف اور کامیاب انتخابات کے ذریعے انتقال اقتدار کے علاوہ عوام میں مقبولیت کھوتی عبوری حکومت کے پاس اب اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے اور بغیر ان دو بیگمات کی شمولیت کے انتخابات کو مستند قرار دینا خاصہ مشکل ہوگا۔

ان انتحابات کے اچھوتا ہونے میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کی بھاری اکثریت سے کامیابی بھی شامل ہے جس پر خود شیخ حسینہ نے بھی ایک خوشگوار حیرت کا اظہار کیا۔

کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر مونس احمر کا خیال ہے کہ انتخابات کے اِس نتیجے میں جہاں خالدہ ضیاء کی حکومت پر لگے بدعنوانی کے الزامات کا دخل رہا تو وہاں کسی حد تک ملک کی سیاست میں بنگالی اور بنگلہ دیشی پہچان نے بھی اثر ڈالا۔

پروفیسر مونس احمر کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ کے انتخابات میں رائے دہندگان نے بنگلہ دیش کی مذہبی پہچان کو رد کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ اسی کی دہائی میں عوامی لیگ کو کسی حد تک ایک ایسی فرسودہ خیالات کی حامل جماعت سمجھا جاتا تھا جو ملک کو آزاد کروانے کے بدلے عوام سے ووٹوں کی خواہاں ہو لیکن اِس مرتبہ انتخابات میں عوامی لیگ نے اپنے آپ کو ایک روشن مستقبل کا تصور رکھنے والی جماعت کے طور پر پیش کیا جس سے نوجوان ووٹروں میں اس کی مقبولیت میں خاصہ اضافہ ہوا۔

بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات کی رپورٹنگ کے لئے وہاں گئی ہوئی بی بی سی ہندی سروس کی رینو اگال کا کہنا ہے کہ یہ عوامی لیگ کا ایک زیرک فیصلہ تھا کیونکہ پہلی بار ووٹ ڈالنے والے اِس مرتبہ ووٹروں کی کل تعداد کا اکتیس فیصد تھے۔

عوامی لیگ نے نوجوان ووٹروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنے منشور میں ’ڈیجیٹل بنگلہ دیش‘ کا تصور بھی پیش کیا جو نوجوان ووٹروں کے لیے ایک روشن معاشی مستقبل کی امید کے طور پر دیکھا گیا۔

عبوری حکومت کا کردار
 بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اور الیکشن کمیشن نے ان انتخابات کو شفاف اور کامیاب بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جہاں حکومت نے امن و امان قائم رکھنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ہزاروں جوان ملک بھر میں تعینات کئے تو وہاں انتخابی حلقوں کی ازسر نو تقسیم، بایو میٹرک شناختی کارڈوں کے اجراء اور تصویروں کی حامل انتخابی فہرستوں نے یقینا ان انتحابات کو شفاف ، منصفانہ اور موثر بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا
مبصرین
انتخابات کا جائزہ لینے والے بعض مبصروں کا خیال ہے کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اور الیکشن کمیشن نے ان انتخابات کو شفاف اور کامیاب بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جہاں حکومت نے امن و امان قائم رکھنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ہزاروں جوان ملک بھر میں تعینات کئے تو وہاں انتخابی حلقوں کی ازسر نو تقسیم، بایو میٹرک شناختی کارڈوں کے اجراء اور تصویروں کی حامل انتخابی فہرستوں نے یقینا ان انتحابات کو شفاف ، منصفانہ اور موثر بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

بی بی سی بنگالی سروس کے پولک گپتا کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے لحاظ سے بنگلہ دیش میں ہر سال قریب دو لاکھ افراد اٹھارہ سال کی عمر کو پہونچ کر ووٹ ڈالنے کے اہل ہوجاتے ہیں۔ گزشتہ سات سال سے ملک میں انتخابات نہیں ہوئے اور اگر دیکھا جائے تو اس مرتبہ چودہ لاکھ نئے ووٹروں نے ووٹ ڈالے جو زیادہ تر عوامی لیگ کو ملے۔

شیخ حسینہ کی بھاری اکثریت سے کامیابی میں جہاں اندرونی طور پر عوام کی سو چ میں تبدیلی اور عبوری حکومت کی شفاف انتخابات کروانے کی کوششوں کا دخل رہا تو وہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا اس کامیابی میں بیرونی ہاتھ کا بھی دخل ہوسکتا ہے؟ خاص طور پر پڑوسی ملک بھارت کا جس کے تعلقات روایتی طور پر عوامی لیگ کی حکومت سے اچھے رہے ہیں؟

پروفیسر مونس احمر کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ بھارت کی حکومت کے ساتھ بنگلہ دیش کا پانی کی تقسیم پر معاہدہ شیخ حسینہ کی حکومت کے دوران ہوا تھا اور بھارت کی حکومت یقیناً بنگلہ دیش میں خالدہ ضیاء کے بجائے شیخ حسینہ کو بحیثت وزیر اعظم دیکھنا زیادہ پسند کرے گی۔

ایک ایسا ملک جس کی کم و بیش دو دہائیوں پر مشتمل آدھی سیاسی تاریخ فوجی بغاوتوں اور فوجی حکمرانوں سے عبارت ہو وہاں کسی بھی سیاسی تبدیلی میں بلواسطہ یا بلاواسطہ فوجی مداخلت کا اندیشہ عوام کے ذہنوں کے کسی دور افتادہ کونے میں موجود ضرور رہتا ہے۔

حالیہ انتخابات کے نتائج دیکھتے ہوئے کیا یہ اندیشہ حقیت کا روپ دھار سکتا ہے؟ پروفیسر مونس احمر کا اِس ضمن میں کہنا ہے کہ اتنی بھاری اکثریت حاصل کرنے کے بعد شیخ حسینہ کو شاید فوج کی بیساکھیوں کی ضرورت نہ پڑے لیکن اگر فوج کو ان کی پالیسیوں سے اتفاق نہ ہوا تو مستقبل میں ان کی حکومت میں فوج کی مداخلت کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

بنگلہ دیش میں گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ ملک کی سیاست پر چھائی دو بیگمات کی روائیتی دشمنی دیکھتے ہوئے ملک کے سیاسی مستقبل کے بارے میں ابھی کوئی بھی بلند بانگ پیشنگوئی کرنا قبل از وقت ہوگا۔

اسی بارے میں
بنگلہ دیش میں ووٹنگ مکمل
29 December, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد