بنگلہ دیش میں عام انتخابات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں سات سال بعد سوموار کو عام انتخابات میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ان انتخابات میں بنگلہ دیش میں روائتی طور پر سیاسی حریف رہنے والی جماعتوں، شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ اور خالد ضیاء کی نیشنلسٹ پارٹی کے درمیان مقابلہ ہے۔ ان دونوں سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم میں مہنگائی کم کرنے، کرپشن اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے بلند بانگ انتخابی وعدے کیئے ہیں۔ فوجی کی زیر نگرانی قائم حکومت نے کہا ہے کہ اس نے ملک کی تاریخ میں پرامن اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری اقدامات کر لیے ہیں۔ ان اقدامات کو پرامن اور شفاف طریقے سے کرانے کے لیے حکومت نے چھ لاکھ پولیس اہلکار اور ہزاروں کی تعداد میں فوجی تعینات کیئے ہیں۔ ہفتے کی رات کو اپنی نشری تقاریر میں شیخ حسینہ واجد اور خالد ضیاء نے محاذ آرائی، ہڑتالوں اور پرتشدد جلوسوں اور جلسوں کی سیاست کو ختم کرنے کا عہد کیا۔ بنگلہ دیش میں جمہوریت ایک عرصے تک محاذ آرائی اور پرتشدد سیاست کا شکار رہی ہے۔ سن دو ہزار چھ سے قبل پندرہ برسوں میں یہ دونوں رہنما یک بعد دیگرے اقتدار میں رہی ہیں۔ بنگہ دیش میں جنوری سن دو ہزار سات میں الیکشن منعقد ہونا تھے لیکن کئی ماہ کے پر تشدد مظاہروں کے بعد فوج نے ایک نگران حکومت قائم کرکے انتخابات ملتوی کر دیئے۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش: شیخ حسینہ رہا11 June, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش: شیخ حسینہ امریکہ روانہ12 June, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش: بلدیاتی انتخابات کا اعلان21 June, 2008 | آس پاس خالدہ ضیاء ضمانت پر رہا12 September, 2008 | آس پاس شیخ حسینہ کی ڈھاکہ واپسی06 November, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش میں ایمرجنسی کا خاتمہ17 December, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش:’سات شدت پسندگرفتار‘26 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||