خالدہ ضیاء ضمانت پر رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء کو کرپشن کے الزامات میں ایک سال قید رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ اس ہفتے کے شروع میں بنگلہ دیش کے ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کی تھی۔ خالہ ضیاء کو کرپشن کے چار مقدمات کا سامنا ہے۔ انہیں ستمبر 2007 میں فوج کی حمایت یافتہ حکومت نےگرفتار کیا تھا۔ خالدہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کرتی رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے ان کے بیٹے طارق الرحمان کو بھی ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ ان پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں۔ خالدہ ضیاء نے رہائی کے فوراً بعد کہا کہ ان کی جماعت جمہوریت کی بحالی کے لیے انتخابات میں حصہ لے گی، کیونکہ موجودہ حکومت فوج کی حمایت سے چل رہی ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اگر شفاف اور آزادانہ انتخابات ہوتے ہیں تو بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) عام عوام کے مینڈیٹ سے اقتدارمیں واپس آ جائے گی۔‘ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی رہائی حکومت کے ساتھ معاہدے کا ایک حصہ ہے جس کے تحت بی این پی انتخابات میں حصہ لے گی۔ ان کی مخالف بنگلہ دیش میں حزب اختلاف کی رہنما اور سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ جون کو پیرول پر رہائی کے بعد علاج کے لیے امریہ روانہ ہو گئی تھیں۔ شیخ حسینہ، خالدہ ضیا اور بنگلہ دیش کے تقریباً 170 سیاستدانوں کو بدعنوانی اور دوسرے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان میں سے تقریباً 50 کو رہا کر دیا گیا ہے۔ خالدہ ضیاء کو بھی حکومت نے پیشکش کی تھی کہ اگر وہ علاج کے لیے بیرون ملک جانا چاہیں تو انہیں بھی رہا کیا جا سکتا ہے تاہم خالدہ ضیاء نے یہ پیشکش مسترد کر دی تھی۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش: شیخ حسینہ امریکہ روانہ12 June, 2008 | آس پاس خالدہ ضیاء کو گرفتار کر لیا گیا03 September, 2007 | آس پاس شیخ حسینہ پر بدعنوانی کا مقدمہ13 January, 2008 | آس پاس ’شیخ حسینہ زیرِ حراست رہیں گی‘27 August, 2007 | آس پاس شیخ حسینہ کاحکومت پرمقدمہ29 July, 2007 | آس پاس شیخ حسینہ: واپسی کی اجازت25 April, 2007 | آس پاس شیخ حسینہ کے خلاف قتل کا مقدمہ11 April, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: الیکشن 18 ماہ بعد05 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||