’شیخ حسینہ زیرِ حراست رہیں گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کو ضمانت پر رہائی دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کی طرف سے دیے گئے گزشتہ ماہ شیخ حسینہ کی رہائی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں زیرِ حراست رکھنے کا حکم دیا۔ شیخ حسینہ کے وکلاء نے سپریم کورٹ کے حکم کو بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب سابق وزیرِ اعظم کی جلد رہائی ممکن نہیں ہو سکے گی۔ بنگلہ دیش کی عوامی لیگ پارٹی کی سربراہ شیخ حسینہ کو جولائی کے وسط میں موجودہ ایمرجنسی قوانین کے تحت بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم شیخ حسینہ ان الزامات کی تردید کرتی ہیں۔ شیخ حسینہ اور ان کے خاندان پر ان کے آٹھ سالہ دورِ حکومت میں رشوت خوری کے الزامات ہیں۔ پیر کو سپریم کورٹ نے شیخ حسینہ کے وکلاء کی اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے اپنا حتمی فیصلہ سنایا کہ موجودہ فوج کی حمایت یافتہ نگران حکومت شیخ حسینہ پر مقدمہ کرنے کی مجاز نہیں۔
سابق بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم کی وکیل سہارا خاتون نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے ایک الگ فیصلے میں شیخ حسینہ کو حکم دیا ہے کہ وہ آئندہ سات دنوں میں اپنے مالیاتی امور کی تفصیل اینٹی کرپشن کمیشن کو جمع کروائیں۔ شیخ حسینہ آجکل ڈھاکہ میں اپنی رہائش گاہ پر زیرِ حراست ہیں۔ وہ ان ڈیڑھ سو سیاستدانوں اور اعلیٰ افسران میں شامل ہیں جنہیں ملک میں بدعنوانی کے خلاف چلائی گئی مہم میں گرفتار کیا گیا ہے۔ شیخ حسینہ کا مؤقف ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات کے پسِ پردہ سیاسی محرکات ہیں تاکہ انہیں آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جا سکے تاہم نگران حکومت اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی۔ |
اسی بارے میں بنگلہ دیش: احتجاج کچلنے کی کوشش24 August, 2007 | آس پاس شیخ حسینہ کاحکومت پرمقدمہ29 July, 2007 | آس پاس شیخ حسینہ کو گرفتار کر لیا گیا16 July, 2007 | آس پاس حسینہ واجد ڈھاکہ پہنچ گئیں07 May, 2007 | آس پاس ’جیل قبول ہے جلاوطنی نہیں‘22 April, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: الیکشن 18 ماہ بعد05 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||