BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 August, 2007, 06:25 GMT 11:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش: احتجاج کچلنے کی کوشش
بنگلہ دیش
دارالحکومت ڈھاکہ اور ملک کے کئی دیگر شہروں میں کرفیو نافذ ہے
بنگلہ دیش میں فوج کی حمایت والی حکومت ملک بھر میں تعلیمی اداروں میں ہونے والے تشدد کے واقعات کے بعد ڈھاکہ میں دو سینئر ماہرین تعلیم کو گرفتار کر لیا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے جھڑپوں اور تشدد کے واقعات میں ملوث طالبعلموں کی تلاش کے لیے دارالحکومت ڈھاکہ کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہے ہیں۔

درایں اثنا ڈھاکہ اور ملک کے دیگر پانچ شہروں میں نافذ کرفیو کو جمعہ کے پیش نظر اٹھا لیا گیا ہے۔

ملک میں نافذ ایمرجنسی کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات میں اب تک ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں ڈھاکہ یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری انور حسین اور سوشل سائنسز فیکلٹی کے ڈین ہارون الرشید شامل ہیں۔ ان دونوں کو یونیورسٹی کیمپس میں واقع ان کی رہائش گاہوں پر چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔

ڈھاکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ کے مطابق پولیس نے ایک چھاپے کے دوران دو افراد کو تشدد کر کے شدید زخمی کر دیا۔

ع

بنگلہ دیش
بنگلہ دیش میں حالیہ مہنگائی کے نتیجے میں عوامی غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے
لاوہ ازیں دو ٹی وی سٹیشنوں کو حکومت کی طرف سے وارننگ موصول ہوئی ہے کہ وہ حکومت پر تنقید کرنے سے باز رہیں۔

بنگلہ دیش میں اس سے پہلے بھی دو حکومتوں کو طلبا کے احتجاج کے نتیجے میں جانا پڑا تھا۔

طالب علموں اور پولیس کے درمیان کشیدگی پیر کو دارالحکومت ڈھاکہ میں شروع ہوئی اور اب شمال میں سلہٹ اور جنوبی شہر چٹاگانگ تک پھیل گئی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شحص ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طالب علموں کا احتجاج بڑھتا جا رہا ہے اور اب اس میں دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہو رہے ہیں۔

ڈھاکہ میں بی بی سی کے قادر کالول کا کہنا ہے کہ جھگیوں میں رہنے والوں، دکانداروں، رکشے چلانے والوں اور تاجروں نے بھی پر تشدد احتجاجوں میں طالب علموں کا ساتھ دیا۔ پولیس نے احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کی اور آنسو گیس چلائی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ احتجاج مزید پرتشدد ہوتے جا رہے ہیں اور ایک مقبول قومی تحریک کی شکل اختیار کر رہے ہیں جس کا مقصد ملک میں جمہوریت کی فوری بحالی ہے۔

موجودہ حکومت نے جنوری میں اقتدار سنبھالا تھا اور تب سے ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کے بعد اگلے سال کے آخر تک انتخابات کرائے جائیں گے۔

ان جھڑپوں کا آغاز ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلباء کےگروہ اور یونیورسٹی میں تعینات فوجی یونٹ کے ایک افسر کے دوران تلخ کلامی سے ہوا تھا جس کے بعد طلبات نے یونیورسٹی میں قائم فوجی کیمپ کے خاتمے کے لیے بدھ تک کی مہلت دی تھی۔

فوج کی طرف سے یونیورسٹی کیمپس خالی کیے جانے کے باوجود حالات میں بہتری نہیں آئی ہے۔ طالب علموں کا مطالبہ ہے کہ فوج کو ملک کے تمام تعلیمی اداروں سے نکالا جائے اور جن فوجیوں نے طلبا کے ساتھ بد سلوکی کی ہے انہیں سزا دی جائے۔

طلبا نے یہ بھی مطابہ کیا ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل معین الاحمد ان سے معافی مانگیں اور تشدد میں زخمی ہونے والوں کو تبی اور مالی امداد دی جائے۔

اسی بارے میں
بنگلہ دیش کے مسائل
15 August, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد