BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 August, 2007, 12:24 GMT 17:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈھاکہ:طلباء اور پولیس کی جھڑپیں
ڈھاکہ مظاہرے
جھڑپوں کے دوران طلباء نے پولیس پر پتھراؤ کیا
بنگلہ دیش کے مختلف علاقوں میں طلباء کے مظاہروں کے بعد پولیس اور طلباء کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوسرے دن بھی جاری رہا اور اب تک زخمی ہونے والے طلباء کی تعداد کم از کم سو ہوگئی ہے۔

منگل کو ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم پندرہ افراد زخمی ہوئے۔

ان جھڑپوں کا آغاز ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلباء کےگروہ اور یونیورسٹی میں تعینات فوجی یونٹ کے ایک افسر کے دوران تلخ کلامی سے ہوا تھا۔ طلباٹ نے اب یونیورسٹی میں قائم فوجی کیمپ کے خاتمے کے لیے بدھ تک کی مہلت دی ہے۔

حکام کے مطابق یہ جھڑپیں ڈھاکہ اورگردونواح کی تین یونیورسٹیوں کے علاوہ چٹاگانگ اور کشتیہ میں ہوئیں۔ ڈھاکہ میں ہونے والی جھڑپوں میں طلباء نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور یونیورسٹی کیمپس میں درجنوں گاڑیوں پر اور مختلف مقامات پر آگ لگا دی۔

مظاہرے کرنے والے طلباء ملک میں جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور
پولیس کے مطابق مظاہرین نے فوجی سربراہ معین الدین احمد کا پتلا بھی نذرِ آتش کیا۔ پولیس کی جانب سے جواباً مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا گیا اور آنسو گیس فائر کی گئی۔

ڈھاکہ میں بی بی سی کے نمائندے ولی الرحمان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ضیاء الرحمان اور محمد ارشاد کی سربراہی میں قائم دو بنگلہ دیشی حکومتیں جن مظاہروں کے نتیجے میں ختم ہوئی تھیں ان کا آغاز طلباء نے ہی کیا تھا۔

اسی بارے میں
بنگلہ دیش کے مسائل
15 August, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد