ڈھاکہ:طلباء اور پولیس کی جھڑپیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے مختلف علاقوں میں طلباء کے مظاہروں کے بعد پولیس اور طلباء کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوسرے دن بھی جاری رہا اور اب تک زخمی ہونے والے طلباء کی تعداد کم از کم سو ہوگئی ہے۔ منگل کو ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم پندرہ افراد زخمی ہوئے۔ ان جھڑپوں کا آغاز ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلباء کےگروہ اور یونیورسٹی میں تعینات فوجی یونٹ کے ایک افسر کے دوران تلخ کلامی سے ہوا تھا۔ طلباٹ نے اب یونیورسٹی میں قائم فوجی کیمپ کے خاتمے کے لیے بدھ تک کی مہلت دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ جھڑپیں ڈھاکہ اورگردونواح کی تین یونیورسٹیوں کے علاوہ چٹاگانگ اور کشتیہ میں ہوئیں۔ ڈھاکہ میں ہونے والی جھڑپوں میں طلباء نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور یونیورسٹی کیمپس میں درجنوں گاڑیوں پر اور مختلف مقامات پر آگ لگا دی۔ مظاہرے کرنے والے طلباء ملک میں جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ڈھاکہ میں بی بی سی کے نمائندے ولی الرحمان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ضیاء الرحمان اور محمد ارشاد کی سربراہی میں قائم دو بنگلہ دیشی حکومتیں جن مظاہروں کے نتیجے میں ختم ہوئی تھیں ان کا آغاز طلباء نے ہی کیا تھا۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش کے مسائل15 August, 2007 | آس پاس شیخ حسینہ کاحکومت پرمقدمہ29 July, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: تین رہنما گرفتار28 May, 2007 | آس پاس حسینہ واجد ڈھاکہ پہنچ گئیں07 May, 2007 | آس پاس ’بنگلہ دیش پاکستان نہیں ہے‘23 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||