شیخ حسینہ: واپسی کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کی حکومت نے ملک کی دو اہم رہنماؤں کے ملک میں رہنے پر سے تمام پابندیاں اٹھا دی ہیں۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق اب عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسین کے بیرون ملک سے بنگلہ دیش واپس آنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی رہنما خالدہ ضیاء کی آمد و رفت پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔ خالدہ ضیاء کو اب تک ڈھاکہ میں ان کی رہائش گاہ میں زیر حرست رکھا جا رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق حکومت ان پر دباؤ ڈال رہی تھی کہ وہ جلا وطن ہو کر سعودی عرب چلی جائیں۔ بیان کے مطابق ’ان دونوں سابق وزرائے اعظم پر تمام پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ ذرائع ابلاغ اور دیگر حلقوں کی رائے کے مد نظر کیا گیا ہے۔ تاہم اس میں امریکہ کے وزارت خارجہ کےاس بیان کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے۔ عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ کو اتوار کے روز بنگلہ دیش واپس آنے سے روک دیا گیا ہے تاہم اب انہیں مطلع کر دیا گیا ہے کہ ان کی واپسی پر پابندی ختم ہو چکی ہے۔ ایمرجنسی حکومت کا موقف تھا کہ ان دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں ملک میں اصلاحات کا سلسلہ نا ممکن ہوگا۔ |
اسی بارے میں خالدہ ضیاء کا بیٹا گرفتار08 March, 2007 | آس پاس ’جیل قبول ہے جلاوطنی نہیں‘22 April, 2007 | آس پاس عبوری حکومت کے لیے نئے سربراہ12 January, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش کے انتخابات مؤخر30 January, 2007 | آس پاس جنرل ارشاد کی خود سپردگی کا حکم05 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||