شیخ حسینہ پر بدعنوانی کا مقدمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے خلاف بدعنوانی اور بھتہ وصول کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کردی ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ میں عدالتی حکام نے بتایا کہ مقدمے کی سماعت سترہ جنوری سے شروع ہوگی اور ساٹھ دنوں کے اندر اس پر فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ الزام ثابت ہونے کی صورت میں شیخ حسینہ کو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق ہوگا۔ شیخ حسینہ اور ان کے اہل خانہ سن 1996 سے 2001 کے دوران ان کے دور حکومت میں ایک تاجر سے چار لاکھ چالیس ہزار امریکی ڈالر وصول کرنے کے الزام سے انکار کرتے رہے ہیں۔ شیخ حسینہ پر کرپشن کا ایک دوسرا الزام بھی ہے جس کی سماعت جلد ہی ہوگی۔ شیخ حسینہ کی واحد بہن شیخ ریحانہ اور ان کے کزن اور سابق وزیر شیخ سلیم پر بھی مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ شیخ ریحانہ ملک سے باہر رہتی ہیں لیکن ان کے مقدمے کی سماعت ان کی غیرموجودگی میں ہوگی۔ بنگلہ دیش میں جنوری 2007 میں فوج کی حمایت یافتہ نگراں حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے شیخ حسینہ سمیت درجنوں سیاست دانوں اور تاجروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ نگراں حکومت نے بنگلہ دیش کی ’گندی سیاست کی صفائی‘ کا نعرہ دیا ہے تاکہ سن 2008 کے آخر تک ملک میں صاف شفاف انتخابات ہوسکیں۔ شیخ حسینہ جولائی سے ڈھاکہ میں واقع ایک خصوصی جیل میں ہیں جہاں ایک اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا بھی قید ہیں۔ خالدہ ضیا نے بھی کرپشن کے الزامات سے انکار کیا ہے۔ دونوں سیاست دانوں کے حامی نگراں حکومت پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ انسداد کرپشن قانون کا غلط استعمال کر کے ملک کے مقبول رہنماؤں کو دوبارہ انتخاب میں شرکت سے روک رہی ہے۔ |
اسی بارے میں شیخ حسینہ کے خلاف قتل کا مقدمہ11 April, 2007 | آس پاس حسینہ واجد ڈھاکہ پہنچ گئیں07 May, 2007 | آس پاس شیخ حسینہ: واپسی کی اجازت25 April, 2007 | آس پاس شیخ حسینہ کو گرفتار کر لیا گیا16 July, 2007 | آس پاس ’شیخ حسینہ زیرِ حراست رہیں گی‘27 August, 2007 | آس پاس وطن ضرور جاؤں گی: حسینہ 19 April, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||