بنگلہ دیش میں ایمرجنسی کا خاتمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتیس دسمبر کے عام انتخابات سے قبل بنگلہ دیش میں دو سال سے جاری ایمرجنسی ختم کردی گئی ہے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے ایمرجنسی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ صدر اعجاز الدین احم نے اسی ہفتے ایمرجنسی کے خاتمے کے حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔ عام انتخابات کے لیے خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی اور شیخ حسینہ کی عوام لیگ نے گزشتہ جمعرات سے انتخابی مہم شروع کردی ہے۔ خالدہ ضیاء اور شیخ حسینہ دونوں ہی ملک کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں، دونوں پر کرپشن کا الزام ہے اور حال ہی میں دونوں کو حکومت کے ساتھ ایک سمجھوتے کےتحت جیل سے رہا کیا گیا ہے تاکہ وہ انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ بنگلہ دیش میں انتخابی اصلاحات کے تنازعے پر پیدا ہونے والے تشدد کی وجہ سے دسمبر دو ہزار سات میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس نور محمد نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’منگل کی نصف شب کے بعد کوئی ایمرجنسی نہیں ہوگی۔‘ اس سے قبل منگل کے روز بنگلہ دیش نے اپنا یومِ آزادی منایا۔ بنگلہ دیش کے انتخابی کمِشنر شوکت حسین نے کہا ہے کہ انتیس دسمبر کے انتخابات کے لیے پینتیس ہزار انتخابی مراکز پر لگ بھگ تین لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں۔ | اسی بارے میں ’شیخ حسینہ مخالف مقدمہ غیرقانونی‘07 February, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش:مذہبی رہنما گرفتار19 May, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش: بلدیاتی انتخابات کا اعلان21 June, 2008 | آس پاس خالدہ ضیاء ضمانت پر رہا12 September, 2008 | آس پاس شیخ حسینہ کی ڈھاکہ واپسی06 November, 2008 | آس پاس حرکت الجہاد بنگلہ دیش پر کڑی نظر07 March, 2008 | آس پاس سابق وزرائےاعظم بات کے لیے راضی13 November, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||