BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 November, 2008, 13:32 GMT 18:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سابق وزرائےاعظم بات کے لیے راضی
خالدہ ضیاء اور شیخ حسینہ
خالدہ ضیاء اور شیخ حسینہ میں ذاتی عداوت بھی رہی ہے
بنگلہ دیش میں آئندہ دسمبر میں عام انتخابات سے قبل ملک کی دو سابق وزرائے اعظم شیخ حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء آپس میں ملاقات کے لیے راضی ہوگئی ہیں۔ ملک کی عارضی حکومت دونوں میں ملاقات کی خواہاں تھی۔

بنگلہ دیش کے اخبارات کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ بات چیت کے لیے ایک ایجنڈا چاہتی ہیں جبکہ خالدہ ضیاء کا کہنا ہے کہ گفتگو کسی ایک خاص موضوع تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔

اخبار ڈیلی سٹار نے لکھا ہے کہ شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ’میں بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہوں لیکن وہ کسی ایجنڈے پر مبنی ہونی چاہیے۔ صرف ملاقات کر کے ایک کپ چائے پینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔‘

ادھر خالدہ ضیاء کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ’وہ میڈیا کے ذریعے اپنے ملک کے لوگوں کو بتانا چاہتی ہیں کہ وہ بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’دو سابق وزرائے اعظم اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہان کے درمیان بات چیت کے لیے کسی خاص ایجنڈے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، وہ سوچتی ہیں کہ اگر بات چیت کسی خاص ایجنڈے پر مبنی رہی تو وہ اس قدر نتیجہ خیز نہیں ہوگی جس کی توقع ہے۔‘

دونوں خواتین بنگلہ دیش کے اقتدار پر قابض رہ چکی ہیں اور سیاسی طور ایک دوسرے کی سخت حریف ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان سنہ انیس نوے سے بات چیت نہیں ہوئی ہے اور دونوں کی ذاتی عداوت سے ملک کی سیاست جمود کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔

ملک کی عبوری حکومت ان دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت کے لیے کوشش کرتی رہی ہے۔ فوجی حکومت کے مشیر حسین ظل الرحمن کا کہنا ہے کہ حکام دونوں کے درمیان بات چیت کے انتظام کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں کیونکہ دونوں بیگمات بنگلہ دیش میں مقبول ہیں۔

خالدہ ضیاء اور شیخ حسینہ میں پچھلی بار ملاقاتیں سنہ انیس سو نوے میں ہوئی تھی جب دونوں نے فوجی حکمراں حسین محمد ارشاد کے خلاف عوامی انقلاب کی مہم چلائی تھی۔

لیکن اس کے بعد ہی سے دونوں میں شدید اختلافات ہوگئے جو ابھی تک دونوں رہنماؤں کے حامیوں میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی لیڈر خالدہ ضیاء گزشتہ دو عشروں سے یکے بعد دیگرے ملک کی وزیراعظم اور اپوزیشن رہمنا کا رول ادا کرتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں
شیخ حسینہ کی ڈھاکہ واپسی
06 November, 2008 | آس پاس
خالدہ ضیاء ضمانت پر رہا
12 September, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد