BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 February, 2008, 00:15 GMT 05:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شیخ حسینہ مخالف مقدمہ غیرقانونی‘
ایک اور سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء سمیت درجنوں کارکنوں کو فوجی حمایت یافتہ حکومت نے گرفتار کیا تھا
بنگلہ دیش کے ہائی کورٹ نے ملک کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے خلاف کرپشن کے مقدمے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ یہ مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

عدالت نے کہا ہے کہ ہنگامی حالت کے قوانین ان مبینہ جرائم کے لیے استعمال نہیں کیے جا سکتے جو فوج کی حمایت یافتہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل عمل میں آئے تھے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم کے وکیل نے عدالت کے فیصلے کو ایک فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے آئین کی بالادستی کا قیام یقینی ہے۔

لیکن سرکاری وکیل نے فوراً حکومت کی طرف سے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔ اس اپیل کی سماعت جمعرات کو ہوگی۔

مبصرین کے نزدیک سپریم کورٹ کا فیصلہ انتہائی اہم ہوگا۔

وزارت قانون کے مشیر اے ایف عارف حسن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ واضح ہوگا آیا زیرِ سماعت بدعنوانی کے تمام مقدمات چلائے جاسکتے ہیں یا نہیں۔

شیخ حسینہ، ان کی ایک بہن اور ایک کزن پر الزام ہے کہ انیس سو چھیانوے اور دو ہزار ایک کے درمیانی عرصے میں انہوں نے ایک بزنس مین سے سوا چار لاکھ ڈالر سے زیادہ رشوت لی تھی۔

شیخ حسینہ اس الزام کی تردید کرتی رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک سیاسی مقدمہ ہے جس کا مقصد ان کو بدنام کر کے سیاسی میدان سے باہر نکالنا ہے۔

بنگلہ دیش میں نگراں حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ نگراں حکومت کو تین ماہ کے اندر اندر ملک میں انتخابات کرانے تھے لیکن اس نے کہا تھا کہ پہلے ملک کے سیاسی نظام کو بدعنوانی سے پاکر کرنا ضروری ہے۔

بنگلہ دیش کی ایک اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا سمیت درجنوں سیاستدانوں کو حراست میں لیا گیا اور ان کے خلاف اس طرح کے مقدمات قائم کیے گئے۔

اب مبصروین کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ یہ فیصلہ دیتی ہے کہ شیخ حسینہ کے خلاف یہ مقدمہ قانونی نہیں ہے اور انہیں رہا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے تو پھر دوسرے رہنماؤں کو حراست میں رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

’شونار بنگلہ جاؤں گا‘
پاکستان کی قید سے رہائی پر شیخ مجیب کی تقریر
بنگلہ دیش میں انیس نومبر کا دھماکہنیا قانون
تیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں
بنگلہ دیش کے یونس
سیاست کا راستہ کھلا ہے: محمد یونس
اسی بارے میں
وطن ضرور جاؤں گی: حسینہ
19 April, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد