حرکت الجہاد بنگلہ دیش پر کڑی نظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی کی سرگرمیوں کو قابو میں رکھنے کے انتظامات کر رہی ہے۔ امریکہ نے جمعرات کو اس اسلامی تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔ حرکت الجہاد کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ بھارت نے بھی حرکت الجہاد پر بھارت میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں اس تنظیم کی کسی کارروائی کا کوئی ثبوت نہیں ہے تاہم خفیہ ادارے کو اس پر سخت نظر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حرکت الجہاد کےسربراہ مفتی عبدالحنان کی گرفتاری کے بعد تنظیم کو کالعدم قرار دے دیاگیا تھا۔ مفتی عبدالحنان نے افغانستان میں روسی فوج کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ حرکت الجہاد کو شہرت اس وقت ملی جب سات سال قبل سابق وزیراعظم حسینہ واجد کو ہلاک کرنے کے منصوبہ کو ناکام بنایا گیا۔ تحقیقاتی ٹیموں کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار پانچ میں بنگلہ دیش میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں بھی حرکت الجہاد ملوث تھی۔ دو ہزار پانچ میں برطانوی وزیرِ داخلہ چارلس کلارک نے ممنوع قرار دینے کے لیے پارلیمنٹ میں بین الاقوامی دہشت گرد تصور کی جانے والی جن پندرہ تنظیموں کے نام بتائے تھے ان میں سے ایک حرکت الجہاد تھی۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش: شدت پسندوں کو پھانسی30 March, 2007 | آس پاس بنگلہ دیشی شدت پسند گرفتار06 March, 2006 | آس پاس ’دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں ہیں‘11 December, 2003 | آس پاس احمدی مسجد پرحملہ، پچاس زخمی21 November, 2003 | آس پاس ’تسلیمہ کو ورغلانے کا الزام غلط ہے‘09 November, 2003 | آس پاس بنگلہ دیش بم حملہ: رہنما ہلاک07 September, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||