BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 November, 2003, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تسلیمہ کو ورغلانے کا الزام غلط ہے‘
تسلیمہ نسرین
تسلیمہ نے اپنی خودنوشت سوانح حیات میں کئی معروف ادیبوں سے اپنے ’تعلقات‘ کا تذکرہ کیا ہے۔

بنگلہ دیش کے ایک معروف دانشور سید شمس الحق نے بنگلہ دیش میں حقوق نسواں کی علمبردار مصنفہ تسلیمہ نسرین کے خلاف ڈھاکہ میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔

مدعی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تسلیمہ نسرین نے اپنی نئی کتاب میں، جو ان کی ذاتی یادداشتوں کا مجموعہ ہے، ان پر الزام لگایا ہے کہ ملک سے فرار ہونے سے قبل مدعی نے انہیں جنسی مباشرت کے لئے راغب کرنے کی متعدد کوششیں کی تھی۔

اپنی خودنوشت سوانح حیات میں تسلمیہ نے کئی مشہور ادیبوں سے اپنے نجی تعلقات کا ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے ملک کے ادبی حلقوں میں زبردست ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔

تسلیمہ نسرین ان دونوں امریکہ میں خود ساختہ جلاوطنی گزار رہی ہیں۔ وہ ہاورڈ یونیورسٹی سے بطور محقق وابستہ ہیں۔ تسلیمہ دس سال پہلے بنگلہ دیش سے جان کے خطرے کے پیش نظر چلی گئی تھیں۔

حد سے تجاوز

 میرے خیال میں بطور ایک مصنفہ کے وہ اپنی حدوں سے تجاوز کر چکی ہیں اور انہوں نے میری باون سالہ پیشہ ورانہ زندگی کو برباد کرنے کی کوشش کی ہے۔

شمس الحق

چار سو پندرہ صفحات پر مشتمل اس کتاب کا نام ’کا‘ ہے جو بنگلہ حروف تہجی کا پہلا حرف ہے۔ یعنی ترتیب کے لحاظ سے اردو حروف تہجی کے ’الف‘ کے مترادف ہے۔

کتب فروشوں کو کہنا ہے کہ لوگ اس کتاب پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔ لیکن ادبی اور سیاسی حلقہ تسلیمہ پر کردار کشی کا الزام لگا رہے ہیں۔

دوسرے دانشوروں کی طرح سید شمس الحق جو بنگلہ دیش کے معروف شاعر، ڈرامہ نگار اور ناول نگار ہیں مذکورہ کتاب میں اپنا نام دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

تسلیمہ لکھتی ہیں کہ اپنے شوہر سے طلاق کے بعد شمس الحق نے ان سے پینگیں بڑھانے کی کوشش کی تھی۔

جبکہ شمس الحق نے اپنی بیان میں اسے ’جھوٹ کا پلندہ‘ قرار دیا ہے۔

شمس الحق بی بی سی بنگلہ سیکشن کے سابق پروڈیوسر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے حصول انصاف کے لئے عدالت کا دوازہ کھٹکھٹایا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’میرے خیال میں بطور ایک مصنفہ کے وہ اپنی حدوں سے تجاوز کر چکی ہیں اور انہوں نے میری باون سالہ پیشہ ورانہ زندگی کو برباد کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

عدالت نے اس مقدمہ کی ابتدائی سماعت کے لئے پیر کا دن مقرر کیا ہے۔

تسلیمہ نے اس کتاب میں ڈھاکہ اور کلکتہ میں مقیم کئی دوسرے مصنفوں اور صحافیوں سے بھی اپنے جنسی تعلقات کا ذکر کیا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے اپنے سابقہ خاندوں سے بھی اپنے تعلقات پر روشنی ڈالی ہے۔

یہ ان کی تیسری کتاب ہے۔ اس سے قبل انہوں نے ’امار میئ بیلا‘ یعنی میری نوعمری، اور ’اُتّل ہوا‘ یعنی طوفانی ہوا۔ حکومت نے دونوں کتابوں پر عریانیت کی بنیاد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان کتابوں سے مذہبی جذبات بھڑکتے ہیں جس سے ملک میں مذہبی رواداری کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔

ان کی تحریریں مذہب، حقوق نسواں اور جنسیت سے متعلق ان کے خیالات کی عکاس ہیں۔

تسلیمہ نسرین کی پہلی کتاب ’لجّا‘ یا شرم تھی۔ سن ترانوے میں اس کی اشاعت کے بعد مذہبی حلقوں کی جانب سے زبردست ردعمل ظاہر کیا گیا تھا۔

اس نئی کتاب کی اشاعت کے بارے میں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے دانشوروں پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد