بنگلہ دیش:مذہبی رہنما گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے رہنما کو حکومت کی بد عنوانیوں کے خلاف مہم کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جماعتِ اسلامی کے سربراہ مطیع الرحمان نظامی نےبد عنوانی کے الزامات کی تردید کی ہے۔ نظامی بیگم خالدہ ضیاء کی کابینہ میں وزیر رہ چکے ہیں۔بد عنوانی کے الزامات میں پہلے سے گرفتار سو سے زائد سیاسی رہنماؤں میں بیگم خالدہ ضیاء بھی شامل ہیں۔ پولیس نے مطیع الرحمان نظامی کو اتوار کو طوفان اور شدید بارش اور ان کے سینکڑوں حامیوں کے احتجاج کے باوجود ان کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ اس سے قبل اتوار کو ہی پولیس نے ان کے دو سابق ساتھی وزراء کو بھی گرفتار کر لیا۔مسٹر مطیع نظامی بنگلہ دیش کی ایک اہم قدامت پسند مذہبی جماعت کے رہنما ہیں۔ان کا کہنا ہے یہ الزامات سیاسی بد نیتی پر مبنی ہیں۔ مسٹر نظامی پر الزام ہے کہ جب جماعتِ اسلامی خالدہ ضیاء کی نبگلہ دیش نیشنلست پارٹی کی مخلوط حکومت میں شامل تھی تو انہیں غیر قانونی طور پر تجارتی کانٹریکٹ دیے گئے۔ دوسری گرفتار شدہ سابق وزیراعظم پر عدالت میں پہلے ہی بدعنوانی کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔بنگلہ دیش میں فوج کی حمایت والی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک دھندلے سیاسی منظر نامے کو صاف کرکے جمہوریت بحال کر دے گی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ حزبِ اختلاف کی تمام بڑی جماعتوں کی قیادت کون کرے گا کیونکہ ان تقریباً تمام جماعتوں کے رہنما سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ | اسی بارے میں ’شیخ حسینہ زیرِ حراست رہیں گی‘27 August, 2007 | آس پاس خالدہ کے دوسرے بیٹے بھی گرفتار16 April, 2007 | آس پاس فوج بلانے پر چار وزراء مستعفی11 December, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش میں ایک اور ہڑتال 30 August, 2004 | آس پاس بنگلہ دیش دھماکہ درجنوں زخمی21 May, 2004 | آس پاس بنگلہ دیشی خاتون نے شیر مار بھگایا11 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||