BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 December, 2008, 22:59 GMT 03:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش: دھاندلی کا الزام نتائج مسترد
یہ انتخابات سات سال کے وقفے کے بعد ہوئے ہیں۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء نے پیر کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کو مسترد کر دیا ہے اور الزام لگایا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔

ڈھاکہ میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے خالدہ ضیاء نے کہا کہ انہیں اس بات کی مصدقہ رپورٹس ملی ہیں کہ ملک بھر میں کئی پولنگ سٹیشنوں پر دھاندلی ہوئی ہے۔

اس سے پہلے بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا تھا کہ پیر کو ہونے والے عام انتخابات میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ نے بھاری کامیابی حاصل کی ہے۔

الیکشن کمیشن نےکہا تھا کہ عوامی لیگ نے کل تین سو نشستوں میں دو سو پچاس سے زیادہ پر کامیابی حاصل کر لی ہے جبکہ ان کی مخالف بیگم خالدہ ضیاء کی جماعت کو صرف تیس نشتیں ملی ہیں۔

شیخ حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء کی جماعتیں روایتی طور پر بنگلہ دیش کی سیاست پر حاوی رہی ہیں اور ملک میں سات سال بعد ہونے والے ان انتخابات میں بھی یہ دونوں جماعتیں آمنے سامنے تھیں۔

سات سال بعد کے وقفے اور دو سال کے عبوری ہنگامی دور کے بعد ہونے والے ان انتخابات میں پولنگ مجموعی طور پر پر امن رہی اور ووٹروں کی بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

تاہم منگل کے روز شمالی پبنا کے علاقے میں متحارب سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے مابین ہونے والے تصادم میں ایک شخص ہلاک اور درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔

ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ ساتھ مانیٹرز اور عالمی برادری نے عمومی طور پر انتخابات کو سراہا ہے۔

تاہم عام انتخابات پر اپنے پہلے ردِ عمل میں مسز خالدہ ضیاء نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ انتخابی نتائج عوامی رائے کی نمائندگی نہیں کرتے۔

’اسی لیے ہم انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت انتخابی دھاندلی کے ثبوت اکٹھے کر رہی ہے اور یہ ثبوت آئندہ چند روز میں میڈیا اور متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق بی این پی کی اتحادی پارٹی جماعت اسلامی کو زیادہ تر نشستوں پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔بی این پی کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ ہے بہت سے انتخابی حلقوں میں ان کے حامیوں کو ووٹ ڈالنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے مقامی ٹی چینلوں کے حوالے سے کہا ہے کہ بی این پی کے رہنما رضوی احمد نے الزام لگایا ہے کہ ملک میں کئی جگہوں پر ان کے حامیوں کو پولنگ سٹشنوں تک جانے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کے سامنے درخواست دائر کریں گے۔

الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق بنگلہ دیش میں آٹھ کرڑو دس لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے ستر فیصد نے اپنا حق رائے دہی استمعال کیا۔ان انتخابات میں انتہائی سخت سکیورٹی اقدامات کیے گئے تھے اور ملک کے مختلف حصوں میں چھ لاکھ پولیس اہلکار اور پچاس ہزار فوجی تعینات کیےگئے تھے۔

الیکشن کمیشن کے سربراہ شمس الہدٰی نے کہا کہ انہیں کامل یقین ہے کہ انتخابی عمل پوری طرف شفاف تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ کسی کو ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اسی بارے میں
خالدہ ضیاء ضمانت پر رہا
12 September, 2008 | آس پاس
شیخ حسینہ کی ڈھاکہ واپسی
06 November, 2008 | آس پاس
بنگلہ دیش میں ووٹنگ مکمل
29 December, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد