حسینہ کی لیگ کو اکثریت حاصل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں سوموار کو ہونے والے عام انتخابات میں شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔ الیکشن کمیشن نے شیخ حسینہ واجد کی جیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عوامی لیگ نے کل تین سو نشستوں میں دو سو سے زیادہ پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اب تک 295 نشستوں کے نتائج آ چکے ہیں جن میں سے شیخ حسینہ واجد کے اتحاد نے 229 پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ شیخ حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء کی جماعتیں روایتی طور پر بنگلہ دیش کی سیاست پر حاوی رہی ہیں اور ملک میں سات سال بعد ہونے والے ان انتخابات میں بھی یہ دونوں جماعتیں آمنے سامنے تھیں۔ سات سال بعد کے وقفے اور دو سال کے عبوری ہنگامی دور کے بعد ہونے والے ان انتخابات میں پولنگ مجموعی طور پر پر امن رہی اور ووٹروں کی بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ڈھاکہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈمٹ نے اطلاع دی ہے کہ گو حتمی نتائج کے سامنے آنے سے کئی گھنٹے قبل ہی عوامی لیگ کے حامیوں نے انتخابی کامیابی کی توقع میں جشن منانا شروع کر دیا ہے۔ عوامی لیگ کی انتخابی کامیابی حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء کی سیاسی زندگی میں ایک اور ڈرامائی موڑ ثابت ہو گا۔ سن دو ہزار میں ایک ہونے والے عام انتخابات میں بی این پی نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق بی این پی کی اتحادی پارٹی جماعت اسلامی کو زیادہ تر نشستوں پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔بی این پی کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ ہے بہت سے انتخابی حلقوں میں ان کے حامیوں کو ووٹ ڈالنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے مقامی ٹی چینلوں کے حوالے سے کہا ہے کہ بی این پی کے رہنما رضوی احمد نے الزام لگایا ہے کہ ملک میں کئی جگہوں پر ان کے حامیوں کو پولنگ سٹشنوں تک جانے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کے سامنے درخواست دائر کریں گے۔ الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق بنگلہ دیش میں آٹھ کرڑو دس لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے ستر فیصد نے اپنا حق رائے دہی استمعال کیا۔ان انتخابات میں انتہائی سخت سکیورٹی اقدامات کیے گئے تھے اور ملک کے مختلف حصوں میں چھ لاکھ پولیس اہلکار اور پچاس ہزار فوجی تعینات کیےگئے تھے۔ الیکشن کمیشن کے سربراہ شمس الہدٰی نے کہا کہ انہیں کامل یقین ہے کہ انتخابی عمل پوری طرف شفاف تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ کسی کو ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش: بلدیاتی انتخابات کا اعلان21 June, 2008 | آس پاس خالدہ ضیاء ضمانت پر رہا12 September, 2008 | آس پاس شیخ حسینہ کی ڈھاکہ واپسی06 November, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش میں ایمرجنسی کا خاتمہ17 December, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش:’سات شدت پسندگرفتار‘26 December, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش میں ووٹنگ مکمل 29 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||