BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 December, 2008, 00:22 GMT 05:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حسینہ کی لیگ کو اکثریت حاصل
یہ انتخابات سات سال کے وقفے کے بعد ہوئے ہیں۔
بنگلہ دیش میں سوموار کو ہونے والے عام انتخابات میں شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔

الیکشن کمیشن نے شیخ حسینہ واجد کی جیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عوامی لیگ نے کل تین سو نشستوں میں دو سو سے زیادہ پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اب تک 295 نشستوں کے نتائج آ چکے ہیں جن میں سے شیخ حسینہ واجد کے اتحاد نے 229 پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔

شیخ حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء کی جماعتیں روایتی طور پر بنگلہ دیش کی سیاست پر حاوی رہی ہیں اور ملک میں سات سال بعد ہونے والے ان انتخابات میں بھی یہ دونوں جماعتیں آمنے سامنے تھیں۔

سات سال بعد کے وقفے اور دو سال کے عبوری ہنگامی دور کے بعد ہونے والے ان انتخابات میں پولنگ مجموعی طور پر پر امن رہی اور ووٹروں کی بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

ڈھاکہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈمٹ نے اطلاع دی ہے کہ گو حتمی نتائج کے سامنے آنے سے کئی گھنٹے قبل ہی عوامی لیگ کے حامیوں نے انتخابی کامیابی کی توقع میں جشن منانا شروع کر دیا ہے۔

عوامی لیگ کی انتخابی کامیابی حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء کی سیاسی زندگی میں ایک اور ڈرامائی موڑ ثابت ہو گا۔ سن دو ہزار میں ایک ہونے والے عام انتخابات میں بی این پی نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق بی این پی کی اتحادی پارٹی جماعت اسلامی کو زیادہ تر نشستوں پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔بی این پی کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ ہے بہت سے انتخابی حلقوں میں ان کے حامیوں کو ووٹ ڈالنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے مقامی ٹی چینلوں کے حوالے سے کہا ہے کہ بی این پی کے رہنما رضوی احمد نے الزام لگایا ہے کہ ملک میں کئی جگہوں پر ان کے حامیوں کو پولنگ سٹشنوں تک جانے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کے سامنے درخواست دائر کریں گے۔

الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق بنگلہ دیش میں آٹھ کرڑو دس لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے ستر فیصد نے اپنا حق رائے دہی استمعال کیا۔ان انتخابات میں انتہائی سخت سکیورٹی اقدامات کیے گئے تھے اور ملک کے مختلف حصوں میں چھ لاکھ پولیس اہلکار اور پچاس ہزار فوجی تعینات کیےگئے تھے۔

الیکشن کمیشن کے سربراہ شمس الہدٰی نے کہا کہ انہیں کامل یقین ہے کہ انتخابی عمل پوری طرف شفاف تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ کسی کو ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اسی بارے میں
خالدہ ضیاء ضمانت پر رہا
12 September, 2008 | آس پاس
شیخ حسینہ کی ڈھاکہ واپسی
06 November, 2008 | آس پاس
بنگلہ دیش میں ووٹنگ مکمل
29 December, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد