BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 January, 2009, 17:24 GMT 22:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیخ حسینہ دوسری بار وزیرِ اعظم
شیخ حسینہ
سنہ دو ہزار چھ تک خالدہ ضیا اور شیخ حسینہ نے مشترکہ طور پر پندرہ برس تک حکومت کی ہے۔
بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ نے دوسری مرتبہ ملک کی وزیرِ اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔

شیخ حسینہ کے حلف کے بعد بنگلہ دیش میں دو برس سے جاری فوجی حمایت یافتہ حکومت کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

عوامی لیگ نے گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات میں بھاری اکثریت سے فتح حاصل کی تھی۔

شیخ حسینہ اور ان کی حریف خالدہ ضیاء دونوں ہی ماضی میں ملک کی وزارتِ عظمٰی پہ فائز رہ چکی ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں کو گزشتہ حکومت نے مشتبہ کرپشن پر جیل میں ڈال دیا تھا لیکن انتخابات سے قبل انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

انتخابی اہلکار کہتے ہیں کہ عوامی لیگ کے اتحاد نے پارلیمان کی تین سو نشستوں میں سے دو سو پچاس پر کامیابی حاصل کی ہے۔

خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے اتحاد نے صرف تیس نشستوں پر فتح حاصل کی۔ بی این پی کی حلیف جماعتِ اسلامی ان انتخابات میں اپنی بہت سی نشستیں ہار گئی۔

عوامی لیگ کی فتح نے دونوں ہی جماعتوں کی قسمت میں ڈرامائی تبدیلی کی ہے ۔ سنہ دو ہزار ایک میں بی این پی نے بھاری اکثریت سے انتخابات میں فتح حاصل کی تھی۔

انتخابی مہم کے دوران چودہ کروڑ چالیس لاکھ افرد آبادی کے ملک کی دونوں رہنماؤں شیخ حسینہ اور خالدہ ضیا نے قیمتوں میں کمی ، کرپشن کے مقابلے اور دہشت گردی کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا۔

دونوں نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ سیاسی مخاصمت، ہڑتالوں اور پرتشدد ریلیوں کا خاتمہ کریں گی جو بنگلہ دیش کی سیاست میں داخل ہو چکی ہیں۔

سنہ دو ہزار چھ تک خالدہ ضیا اور شیخ حسینہ نے مشترکہ طور پر پندرہ برس تک حکومت کی ہے۔

جنوری سنہ دو ہزار سات میں بنگلہ دیش میں انتخابات ہونے تھے لیکن فوج نے کئی ماہ پر محیط سڑکوں پر متحارب گروہوں کے درمیان ہونے والے احتجاج اور لڑائیوں کے بعد جو بے قابو ہو گئے تھے، ان انتخابات کو منسوخ کر دیا تھا۔

بعد میں فوج کی حمایت یافتہ حکومت نے کرپشن ختم کرنے کی کوشش کی اور سینکڑوں بڑے سیاست دانوں اور کاروباری شخصیات کو گرفتار کر لیا۔ ووٹر لسٹوں میں سے ایک کروڑ دس لاکھ جعلی نام بھی ختم کیے گئے۔

اسی بارے میں
بنگلہ دیش میں ووٹنگ مکمل
29 December, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد