بنگلہ دیش میں بھی تاج محل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا میں فن تعمیر کا بے مثال نمونہ اور لافانی محبت کی علامت مانے جانے والے تاج محل پر ہندوستان کی اجارہ داری ختم ہونے والی ہے! بنگلہ دیش میں ایک دولت مند فلم ساز احسان اللہ مونی ڈھاکہ کے قریب تاج محل کی ایک ہو بہ ہو نقل بنوا رہے ہیں جس پر تقریبا اٹھاون ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔ احسان اللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے ان غریب ہم وطنوں کو بھی تاج کے بے مثال حسن سے لطف اندوز ہونے کا موقع دینا چاہتے ہیں جو اصل تاج دیکھنے کے لیے آگرہ نہیں جاسکتے۔ تاج محل سترہویں صدی میں مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی ملکہ ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا تھا۔ شاہ جہاں اور ممتاز محل تاج محل میں ہی دفن ہیں۔ بنگلہ دیشی تاج سونار گاؤں میں تعمیر کیا جارہا ہے جو دارالحکومت ڈھاکہ کے قریب واقع ہے۔
مسٹر مونی کو امید ہے کہ غیر ملکی سیاح بھی ان کا تاج دیکھنے آئیں گے۔ اصل تاج بیس ہزار مزدوروں نے بیس سال میں تعمیر کیا تھا۔ لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے اور مسٹر مونی کا تاج صرف پانچ سال میں پورا ہوگیا ہے۔ لیکن تاج محل کی نقل بنانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس کے لیے اٹلی اور بیلجئیم سے سنگ مرمر اور گرینائٹ منگوایا گیا اور فن تعمیر کے ماہر اصل تاج کے نقشے بنانے کے لیے آگرہ گئے۔ عمارت تو تیار ہے لیکن آس پاس کے سبزہ زار پر ابھی کام پورا نہیں ہوا ہے۔ کام پورا ہوجائے تبھی لوگ یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ آیا مسٹر مونی اپنی کوشش میں کامیاب ہوئے ہیں یا نہیں۔ لیکن یہ طے ہے کہ کوئی شاعر یہ کہہ کر تنقید نہیں کرسکے گا کہ ’اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لیکر ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مزاق‘ کیونکہ بظاہر مسٹر مونی نےیہ تاج ممتاز محل کے لیے نہیں غریبوں کے لیے بنوایا ہے۔ | اسی بارے میں تاج محل پیلا پڑتا جا رہا ہے15 May, 2007 | انڈیا تاج محل نئے سات عجائبات میں شامل 08 July, 2007 | انڈیا سیاحوں کے لیے خصوصی پولیس26 September, 2007 | انڈیا ایک ووٹ انکور واٹ مندر کو بھی21 June, 2007 | انڈیا اترپردیش الیکشن اور شاہی عمارتیں13 May, 2007 | انڈیا مسلم بورڈ کا دعوٰی بے بنیاد ہے: جے پال 01 August, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||