BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 December, 2008, 08:31 GMT 13:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عوامی لیگ کی ’ناقابلِ یقین‘ فتح

حسینہ
’ہمیں معلوم تھا کہ ہم جیتیں گے لیکن اتنی واضح اکثریت سے جیتنے کی امید نہ تھی‘
دو سال کی ایمرجنسی کے بعد بنگلہ دیش میں ہوئے انتخابات میں سنہ تہتر کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے۔

ان انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح زیادہ تھی اور پرتشدد واقعات بھی کم ہوئے۔ ان انتخابات میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ اور اس کے اتحادی کی جیت ہوئی جس میں انہوں نے قومی اسمبلی کی دو تہائی نشستیں جیتیں۔

مہوجت یعنی اس اتحاد نے مخالفین بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی کو بری طرح شکست دی۔ جماعت اسلامی کی تمام امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

عوامی لیگ کی فتح نے عوام کے ساتھ ساتھ اس جماعت کے قائدین بھی اس جیت کے بارے میں سوچ بچار کر رہے ہیں۔ عوامی لیگ کے عبدل مہتھ نے بی بی سی بنگالی سروس سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہمیں معلوم تھا کہ ہم جیتیں گے لیکن اتنی واضح اکثریت سے جیتنے کی امید نہ تھی۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج ہے اور ہمیں لوگوں کی امیدوں پر پورا اترنا ہو گا۔‘ عبدل مہتھ کا نام وزیر خزانہ کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

انتخابات کے نتائج کے ساتھ سیاسی تجزیہ کار یہ سمجھنے کی کوشش کرتے رہے کہ بی این پی کی ہار کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ڈیلی سٹار اخبار کے مدیر محفوظ انم کا کہنا ہے ’یہ نتائج واضح طور پر عوام کی آواز کا نتیجہ ہیں۔ پہلی بار مجموعی ووٹرز میں سے ایک تہائی نے ووٹ ڈالے اور نوجوان ووٹرز نے بی این پی کی منفی سیاست کو مسترد کیا جو کہ مذہب اور خوف پر مبنی تھی‘۔

لیکن لوگوں کا بی این پی کو مسترد کرنا ہی ان نتائج کی وجہ نہیں ہے۔ عوامی لیگ کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ اس کی سوچ پرانی ہے۔ لیکن اس مرتبہ اس نے اپنی نئی مہم سے بہت سے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔

سماکل کے نائب مدیر مزمل حسین کا اس بارے میں کہنا تھا ’اسی کی دہائی میں عوامی لیگ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ ماضی کی بات کرنے والی جماعت ہے۔ لیکن اس جماعت کے منشور نے نوجوان ووٹرز کو اپنی طرف کھینچا۔‘

یہ کم و بیش ہوتا ہے کہ سیاستدان نوجوانوں کو مستقبل کے حوالے سے تصور دیا ہو لیکن سینیئر صحافی امان اللہ کبیر کا کہنا ہے کہ عوامی لیگ نے اس بار وہ تصور دیا ہے۔

’شیخ حسینہ نے ڈیجیٹل بنگلہ دیش بنانے کی آواز لگائی، معاشی ترقی پروگرام دیا اور اس نے نوجوانوں کو امید دی اور انہوں نے اس امید کو ووٹ دیے۔‘

اس طرح کی واضح جیت سے جماعت کے لوگ تو خوش ہوتے ہیں لیکن غیر جانبدار لوگ کو ہمیشہ تھوڑا خوف رہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار ایک میں بی این پی بھی دو تہائی اکثریت سے جیتی تھی اور ملک کی تاریخ میں سب سے بدعنوان حکومت بنی۔

لیکن عوامی پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ ایسی غلطی نہیں کرے گی۔ ’شیخ حسینہ کے قریبی ساتھی حسن محمود کا کہنا ہے ’ہمیں بڑی فتح نصیب ہوئی ہے لیکن حزب اختلاف کی کم نشستیں ہونے کے باوجود ہماری کوشش ہو گی کہ ان کو پالیسی بنانے میں شامل رکھیں۔‘

بی این پی ابھی ہی سے دھاندلی کی آواز اٹھا رہی ہے

انتخابات میں جیت شیخ حسینے کے لیے ذاتی فتح ہے کیونکہ پچھلے سال بدعنوانی کے الزامات میں جیل جانے کے بعد ان کا سیاسی سفر ختم ہوتا نظر آ رہا تھا۔

شیخ حسینہ اور خالدہ ضیا دونوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ’بندوق اور غندہ گردی‘ کو ملک کے سیاسی منظر نامے کا حصہ بنایا ہے۔ ان دونوں کے اختلاف کو ’بیگمات کی جنگ‘ کہا جاتا ہے۔

ان دونوں کے مخالفین کا ماننا ہے کہ ملک کی سیاست اسی وقت بہتر ہو سکتی ہے جب ان دونوں سے چھٹکارا ملے گا۔ اس سوچ کو ملک میں ’مائنس ٹو فارمولا‘ کہا جاتا ہے۔

دو ہزار سات میں نگران حکومت نے ایمرجنسی اختیارات استعمال کرتے ہوئے شیخ حسینہ اور خالدہ ضیا کو خود ساخت ملک بدری پر مجبور کیا۔ اس کے بعد کوشش کی گئی کہ ان دونوں کی جماعتیں ہی ان دونوں رہنماؤں کو مسترد کردیں لیکن اس میں ناکامی ہوئی۔

اس کے بعد ایک اور کوشش کی گئی جس میں ان دونوں جماعتوں کو توڑنے کی کوشش کی گئی لیکن اس میں بھی ناکامی ہوئی۔ ایک آخری حربے کے طور پر نگران حکومت نے دونوں رہنماؤں کو بدعنوانی کے الزامات میں جیل بھیج دیا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کو سزا ہو جائے گی اور سرکاری عہدے کے لیے نا اہل قرار پائیں گی۔

لیکن نگران حکومت خوراک کے بحران کو حل نہ کر پائی جس کی وجہ سے عوام اس کے خلاف ہوگئی۔ نگران حکومت کے پاس کوئی راستہ نہ رہا سوائے انتخابات کرانے کے۔ لیکن انتخابات ان دو بیگمات کے بغیر نہیں ہو سکتے تھے۔

یہ انتخابات ملک کی تاریخ میں واحد مستند انتخابات کی حیثیت سے جانے جائیں گے۔ لیکن بی این پی ابھی ہی سے دھاندلی کی آواز اٹھا رہی ہے لیکن اس آواز کو اس جماعت کے علاوہ کسی کی حمایت حاصل نہیں ہو گی۔

اسی بارے میں
بنگلہ دیش میں ووٹنگ مکمل
29 December, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد