BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 February, 2009, 19:13 GMT 00:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش: سپاہیوں کی بغاوت ختم
بنگلہ دیش فوج
ہزاروں فوجیوں اور پولیس کو بیرکوں کے باہر تعینات کر دیا گیا تھا

بنگلہ دیش میں سرحدوں کی حفاظت کرنے والے بنگلہ دیش رائفلز کے سپاہیوں نے اپنی بغاوت ختم کردی ہے اور اسی کے ساتھ سپاہیوں نے اپنے یتھیار ڈال دیے ہیں اور یرغمال بنائے گئے افراد کو رہا کر دیا ہے۔

بنگلہ دیشی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ بغاوت اب بالکل ختم ہوگئی ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے بنگلہ دیش رائفلز کے باغی سپاہیوں سے فوراً ہتھیار ڈالنے کو کہا تھا اور وارننگ دی تھی کہ اگر باغی سپاہیوں نے ایسا نہیں کیا تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

قوم سے اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے باغی فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اپنے ہتھیار ڈال کر فوراً بیرکوں میں واپس چلے جائیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے سخت کارروائی کرنے پر مجبور نہ کریں۔ میرے صبر کو حد سے زیادہ نہ آزمائیں۔‘

بنگلہ دیش میں سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار بنگلہ دیش رائفلز کی مسلح بغاوت بدھ کے روز دارالحکومت ڈھاکہ کے باہر دیگر شہروں میں پھیل گئی تھی۔ جبکہ جمعرات کو ڈھاکہ میں باغی سپاہیوں نے ہتھیار ڈال دیے تھے اور یرغمال بنائے گئے افراد کو رہا کرنا شروع کر دیا تھا۔

دریں اثناء نو فوجی جوانوں کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں جنہیں خیال کیا جاتا ہے کہ باغی سپاہیوں نے ہلاک کردیا تھا۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فوج کے کئی آفیسر ابھی لاپتہ ہیں۔

 باغیوں نے کہا تھا کہ وہ عام معافی کے بدلے اپنے ہتھیار ڈال دیں گے اور یرغمال بنائے گئے فوجی افسروں کو رہا کر دیں گے۔ معاہدہ وزیر اعظم اور باغی افراد کے ایک چودہ رکنی وفد کے درمیان مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔
ڈھاکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈمٹ کا کہنا ہے کہ بدھ کو شروع ہونے والی مسلح بغاوت ملک کے ديگر علاقوں میں پھیل گئی تھی۔ مارک ڈمٹ کا کہنا ہے کہ ملک کی ہندوستان سے ملحقہ مشرقی سرحد کے فینی علاقے میں اہم بندرگاہ چٹاگونگ کے علاوہ شمال مغرب علاقے راج شاہی اور شمال میں میں سلہٹ اضلاع سے فائرنگ کی خبریں تھیں۔

چٹاگونگ میں اپنے آپ کو بنگلہ دیش رائفلز کا جوان بتانے والے ایک شخص نے کہا ہے کہ انہوں نے فوج کو اپنے کیمپ میں گھسنے سے روکنے کے گولیاں چلائی ہیں۔ حالانکہ اس خبر کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

جنوب میں کھلانہ علاقے میں باغی سپاہیوں نےایک سڑک کو روکا لیکن فائرنگ کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ شمالی مشرقی میں ضلع مولوی بازار کے پولیس چیف نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ وہاں باغی سپاہی اندھا دھن گولیاں چلا رہے تھے۔

بدھ کو شروع ہونے والی بنگلہ دیش رائفلز کی مسلح بغاوت کے دوران پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جانب سے بنگلہ دیش رائفلز کے بغاوت کرنے والے سپاہیوں کو عام معافی کے اعلان کے بعد سے باغیوں نے ہتھیار ڈالنا اور عورتوں اور بچوں کو رہا کرنا شروع کر دیا تھا۔

جمعرات کو حالات اتنے سنگین ہوگئے تھے کہ بنگلہ دیش رائفلّ کے سپاہیوں نے کم سے کم بارہ شہروں میں فوجی بیرکوں پر قبضہ کرلیا تھا۔

وزیر اعظم نے باغی افراد سے وعدہ بھی کیا کہ ان کے مطالبات پر غور کیا جائے گا۔ باغیوں نے کہا تھا کہ وہ عام معافی کے بدلے اپنے ہتھیار ڈال دیں گے اور یرغمال بنائے گئے فوجی افسروں کو رہا کر دیں گے۔ مقامی میڈیا اس بغاوت کی وجہ جوانوں کی تنخواہوں اور کام کرنے کے ماحول سے بے اطمینانی بتا رہا ہے۔

تاریخی موڑ
تقسیم ہند کے بعد تیسرے ملک کی کہانی
اسی بارے میں
بنگلہ دیش میں ووٹنگ مکمل
29 December, 2008 | آس پاس
بنگلہ دیش میں بھی تاج محل
10 December, 2008 | آس پاس
شیخ حسینہ کی ڈھاکہ واپسی
06 November, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد