باغی سپاہیوں کو حسینہ کی تنبیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کی وزیر اعظم نے سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار بنگلہ دیش رائفلز کے باغی سپاہیوں سے فوراً ہتھیار ڈالنے کو کہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر باغی سپاہیوں نے ایسا نہیں کیا تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ قوم سے اپنے خطاب کے دوران شیخ حسینہ نے باغی فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’اپنے ہتھیار ڈال کر فوراً بیرکوں میں واپس چلے جائیں۔‘ انہوں نے مزید کیا کہ ’مجھے سخت کارروائی کرنے پر مجبور نہ کریں۔ میرے صبر کو حد سے زیادہ نہ آزمائیں۔‘ بنگلہ دیش میں سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار بنگلہ دیش رائفلز کی مسلح بغاوت دارلحکومت ڈھاکہ کے باہر دیگر شہروں میں پھیل گئی ہے۔ مسلح بغاوت کے مزید علاقوں میں پھیلنے کی خبر ایسے وقت میں آئی ہے جب ڈھاکہ میں باغی سپاہیوں نے ہتھیار ڈال دیے تھے اور یرغمال بنائے گئے افراد کو رہا کرنا شروع کردیا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ جمعرات کو بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ ملک سے خطاب کرسکتی ہیں۔ ڈھاکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈمٹ کا کہنا ہے کہ بدھ کو شروع ہونے والی مسلح بغاوت ملک کے ديگر علاقوں میں پھیل گئی ہے۔ مارک ڈمٹ کا کہنا ہے کہ ملک کی ہندوستان سے ملحقہ مشرقی سرحد کے فینی علاقے میں اہم بندرگاہ چٹاگونگ کے علاوہ شمال مغرب علاقے راج شاہی اور شمال میں میں سلہٹ اضلاع سے فائرنگ کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ حالانکہ ان خبروں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ چٹاگونگ میں اپنے آپ کو بنگلہ دیش رائفلز کا جوان بتانے والے ایک شخص نے کہا ہے کہ انہوں نے فوج کو اپنے کیمپ میں گھسنے سے روکنے کے گولیاں چلائی ہیں۔ حالانکہ اس خبر کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوپائي ہے۔ جنوب میں کھلانہ علاقے میں باغی سپاہیوں نےایک سڑک کو روکا ہے لیکن فائرنگ کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ شمالی مشرقی میں ضلع مولوی بازار کے پولیس چیف نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ وہاں باغی سپاہی اندھا دھن گولیاں چلا رہے تھے۔ بدھ کو شروع ہونے والی بنگلہ دیش رائفلز کی مسلح بغاوت کے دوران پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جانب سے بنگلہ دیش رائفلز کے بغاوت کرنے والے سپاہیوں کو عام معافی کے اعلان کے بعد سے باغیوں نے ہتھیار ڈالنا اور عورتوں اور بچوں کو رہا کرنا شروع کر دیا تھا۔ وزیر اعظم نے باغی افراد سے وعدہ بھی کیا کہ ان کے مطالبات پر غور کیا جائے گا۔ باغیوں نے کہا تھا کہ وہ عام معافی کے بدلے اپنے ہتھیار ڈال دیں گے اور یرغمال بنائے گئے فوجی افسروں کو رہا کر دیں گے۔ مقامی میڈیا اس بغاوت کی وجہ جوانوں کی تنخواہوں اور کام کرنے کے ماحول سے بے اطمینانی بتا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں بنگلہ دیش: پچاس ہلاکتوں کا خدشہ26 February, 2009 | آس پاس شیخ حسینہ دوسری بار وزیرِ اعظم06 January, 2009 | آس پاس بنگلہ دیش:بھاری حمایت سےحکومت کا آغاز06 January, 2009 | آس پاس عوامی لیگ کی ’ناقابلِ یقین‘ فتح30 December, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش میں ووٹنگ مکمل 29 December, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش میں ایمرجنسی کا خاتمہ17 December, 2008 | آس پاس بنگلہ دیش میں بھی تاج محل10 December, 2008 | آس پاس شیخ حسینہ کی ڈھاکہ واپسی06 November, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||