BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 January, 2009, 23:25 GMT 04:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوباما کی صلاحتیوں کا امتحان شروع

اوباما کو دنیا کے کسی حصے میں یکایک شروع ہوجانے والے خونی تنازعات اور سیاسی بحرانوں سے نمٹنے کے لئے ہر دم تیار رہنا ہوگا
واشنگٹن میں اقتدار کی منتقلی کے ساتھ ہی باراک اوباما کی قائدانہ صلاحیتوں کا اصل امتحان شروع ہوگیا ہے۔داخلی میدان ہو یا خارجی محاذ ان کے سامنے بش دور کے مسائل کا انبار ہے۔

بحرانوں سے نمٹنے کے لئے باراک اوباما پرُامیداور تیار نظر آتے ہیں۔ لیکن جتنی زیادہ توقعات دنیا نے اُن سے باندھ لی ہیں کیا اُن پر پورا اُترنا کسی امریکی صدر کے لئے ممکن بھی ہے؟

باراک اوباما کے دل میں کیا ہے یہ وہی بہتر جانتے ہیں۔ البتہ ان کے بیانات اور تقاریر سے انہوں نے اپنے ارادے صاف بتا دیئے ہیں۔وہ مسلم دنیا کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں۔وہ امریکہ کو طاقت کے نشے میں چور کسی بدمست ہاتھی کی بجائے ایک ذمہ دار غریب پرور ملک بنانا چاہتے ہیں۔

وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ امریکہ خود کو اکیلے محض فوجی طاقت کے ذریعے محفوظ نہیں بنا سکتا بلکہ اس کے لئے اُسے دوسرے ملکوں کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا اور اپنی تمام تر طاقت کے باوجود امریکہ کو انکساری اور برداشت سے کام لینا ہوگا۔

لیکن اپنے ان بظاہر نیک ارادوں کی تکمیل کے لئے باراک اوباما عملاً کس طرح آگے بڑھیں گے؟ یہ ابھی واضع نہیں۔کچھ کام ایسے ہیں جو وہ اپنے انتظامی اختیارات کے ذریعے انجام دے سکتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے گوانتاناموبے میں جاری فوجی ٹربیونلز کی کاروائی معطل کرکے کیا ہے۔ لیکن بڑے پیمانے پر امریکی پالیسیوں میں تبدیلی کے لئے انہیں ریاست کے دوسرے ستونوں کا تعاون درکار ہوگا جس میں کانگریس کا کردار اہم ترین ہے۔

امریکہ کے چیک اینڈ بیلنس والے نظامِ جمہوریت میں اگر اراکینِ کانگریس کی اکثریت صدر کی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو تو انہیں اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کی واضح مثال سن انیس سو ساٹھ میں ڈیموکریٹک صدرجان ایف کینیڈی کی ہے جو بھر پور عوامی مقبولیت کے نتیجے میں الیکشن جیت کر تو آ گئے لیکن اقتدار کے پہلے بیس ماہ میں کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکے۔

اس کی بڑی وجہ واشنگٹن کی وہ طاقتور لابیاں تھیں اور ہیں جو بنیادی اصلاحات اور نظام کی تبدیلی کے خلاف سرگرم رہتی ہیں۔ ان مالدار اور طاقتور لابیوں کا اثر اراکینِ کانگریس سے لےکر ذرائع ابلاغ اور کاروباری حلقوں تک پھیلا ہوا ہوتا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ صدر اوباما کے بعض خیرخواہوں میں یہ خدشات بِلاجواز نہیں کہ کہیں اوباما اپنے وعدوں اور نعروں کے برعکس امریکی سیاست کے اسی فرسودہ نظام کا حصہ نہ بن جائیں جسے تبدیل کرنے کے لئے انہیں امریکیوں نے ووٹ دیکر وائٹ ہاؤس تک پہنچایا۔

اگر ڈیموکریٹک اکثریت والی موجودہ کانگریس صدر اوباما کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے ان کے سامنے بےجا کی رکاوٹیں نہیں کھڑی کرتی تو اس سے اُنہیں بلاشبہ اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں کافی مدد ملے گی۔

لیکن امریکی صدور کی حالیہ تاریخ دیکھتے ہوئے یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ امریکی صدور وائٹ ہاؤس میں اکثر سوچ کر تو کچھ آتے ہیں لیکن پھر لگنا انہیں کسی اور کام پر پڑ جاتا ہے۔

بیس برس پہلے سن انیس سو اٹھاسی میں ریپبلکن پارٹی کے جارج بش (سینیئر) معاشی بہتری ، تعلیم کے فروغ اور دفاعی بجٹ گھٹانے کے وعدوں پر صدر منتخب ہو کر آئے۔ لیکن جنوری انیس سو اناسی میں صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد انہیں اپنا بیشتر وقت دنیا بھر کے مسائل سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی پروازوں پر گذارنا پڑا۔

وہ داخلی پالیسی پر توجہ دینے کی بجائےچین کے ٹنامن سکوائر میں مظاہرین پر تشدد اور پھر کویت پر عراق کی چڑھائی جیسے عالمی بحرانوں سے نمٹنے میں لگ گئے۔بلکل اسی طرح کون جانتا تھا کہ بین الاقوامی سیاست سے نا آشنا اُن کے صاحبزادے جارج ڈبلیو بش گیارہ ستمبر کے واقعات کی وجہ سے دہشتگردی کے خلاف ایک متنازع عالمی جنگ کے خالق بن جائیں گے؟

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی طاقتور ترین فوج کے چیف کمانڈر کی حیثیت سے صدر اوباما کو دنیا کے کسی حصے میں یکایک شروع ہوجانے والے خونی تنازعات اور سیاسی بحرانوں سے نمٹنے کے لئے ہر دم تیار رہنا ہوگا۔

موجودہ عالمی حالات میں اس بات کا بہرحال قوی امکان ہے کہ ماضی کے صدور کی طرح باراک اوباما کو بھی اپنی خواہشات کے ایجنڈے پر سمجھوتہ کرکے فوری نوعیت کے اچانک ابھرنے والے عالمی بحرانوں سے نمٹنا پڑجائے۔

بلاشبہ اوباما کی صورت میں دنیا کو امریکہ کی نئی قیادت، نئی سوچ اور نیا لب و لہجہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لیکن صدر بش کے بعد آیا یہ صرف سطحی لحاظ کی خوشگوار تبدیلی ثابت ہوگی یا پھر واقعی ایک نئے دور کا آغاز؟ اس کا بہتر اندازہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں کے دوران باراک اوباما کے عملی اقدامات سے ہی ممکن ہوگا۔

اوباما اور توقعات
بارک اوباما سے امریکی عوام کیا توقع کرتی ہیں
 اوبامااوباما کے عزائم
گوانتانامو بے کی بندش اور تشدد کا خاتمہ
 اوبامہ ٹائم میگزین کے صفـحۂ اول پربہترین شخصیت
اوبامہ 2008 کی بہترین شخصیت: ٹائم میگزین
باراک اوبامااوباما کی خاموشی
غزہ: لڑائی پر خاموشی ،افسوس کا اظہار
دمتری میدویدفروس اور اوباما
روسی صدر کا بیان یا ایک تیر دو شکار؟
اوباماذمہ داری اوباما پر
غزہ میں فوجی کارروائی کون بند کرائے گا؟
اسی بارے میں
حلف برداری،سب ٹکٹ بک گئے
10 January, 2009 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد