BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 October, 2008, 07:08 GMT 12:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترمیم شدہ پیکیج پر سینیٹ میں ووٹنگ
امریکی صدر بش
بروقت کچھ نہ کرنے کی قیمت سات کھرب ڈالر کے امدادی پیکیج سے زیادہ ہوگی: بش
امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے سات کھرب ڈالر کا مالی امدادی پیکیج مسترد کیے جانے کے بعد اب امریکی سینیٹ ایک ترمیم شدہ امدادی منصوبے پر بدھ کو رائے شماری کرے گی۔

توقع ہے کہ یہ نیا منصوبہ پہلے والے پیکیج سے ملتا جلتا ہوگا تاہم کانگریس سے اس کی منظوری کو آسان بنانے کے لیے اس میں بعض نئے اقدامات متعارف کروائے گئے ہیں۔

ان نئے اقدامات میں سے ایک کے تحت بچتوں پر حکومت کی ضمانت کی رقم ایک لاکھ پاؤنڈ سے بڑھا کر ڈھائی لاکھ پاؤنڈ کر دی گئی ہے۔

اس بل کی منظوری کے لیے سینیٹ کے ایک سو ارکان میں سے ساٹھ ارکان کی حمایت درکار ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی منظوری کے بعد جب یہ بل ایوان نمائندگان میں دوبارہ پیش ہوگا تو وہاں اس کے لیے حمایت میں اضافہ کا امکان ہے۔

یہ رائے شماری ڈیموکریٹس کی طرف سے اس یقین دہانی کے بعد کروائی جا رہی ہے کہ وہ اس بحران کا مشترکہ حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

سینیٹر ہیری ریڈ اور ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے صدر جارج بش کو لکھے گئے خط میں توقع ظاہر کی ہے کہ امریکہ کو مالیاتی بحران سے نکالنے کے لیے ایک متفقہ منصوبے کی منظوری جلد ہی دے دی جائے گی۔

ان کا کہنا ہے ’مل کر کام کرتے ہوئے، ہمیں یقین ہے کہ ہم مستقبل قریب میں ایک ذمہ دارانہ بِل پاس کروا لیں گے۔‘

اس سے قبل صدر بش نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کانگریس حالیہ مالی بحران سے بچاؤ کے لیے کوئی منصوبہ منظور کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے تو اس کے اثرات تکلیف دہ اور طویل ہوں گے۔

صدر بش کے اس بیان کے بعد امریکی بازار حصص نے مثبت ردعمل کا مظاہرہ کیا اور منگل کو ڈاؤجونز انڈیکس چار اعشاریہ سات کے اضافے پر بند ہوا۔ اسی طرح بدھ کی صبح جاپان اور آسٹریلیا کے بازارِ حصص میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق سینیٹ کے لیے امدادی پیکیج کا بل پاس کرنا اس لیے آسان ہوگا کہ اس ایوان نمائندگان کی طرح ووٹروں کے دباؤ کا سامنا نہیں ہے۔

ایوان نمائندگان کے تمام ارکان کو نومبر میں دوبارہ انتخاب کے لیے اپنے ووٹروں کے پاس جانا ہوگا جبکہ صرف ایک تہائی سینیٹروں کو اس مرحلے سے گزرنا ہوگا۔

امریکی مالی بحران
امریکی پیکج، اعتراضات اور مستقبل
دائرہ پھیل رہا ہے
عالمی بحران، دنیا بھر کی شیئر مارکٹس میں مندی
عالمی مالیاتی بحران
معیشت کو ایسے جھٹکے عرصے سے نہیں لگے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد