BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 August, 2008, 07:46 GMT 12:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روسی الزامات جھوٹ: امریکہ
 روسی افواج ابھی بھی جورجیا میں موجود ہیں
روسی افواج ابھی بھی جورجیا میں موجود ہیں
امریکہ نے روس کے اس الزام کو ’گھڑا ہوا جھوٹ‘ قرار دیا ہے کہ اس نے داخلی سیاسی وجوہات کی وجہ سے جورجیا میں لڑائی کو اشتعال دینے میں مدد کی ہے۔

روسی وزیر اعظم ولادمیر پوتن نے امریکی خبر رساں ادارے سی این این سے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکی شہریوں کو جنوبی اوسیٹیا میں موجود پایا گیا ہے۔

ولادمیر پوتن نے کہا کہ روسی فوج کے حکام نے انہیں بتایا ہے کہ جورجیا کے مسئلے کو اشتعال دینے کا مقصد امریکی صدارتی امیدواروں میں سے ایک کو فائدہ پہنچانا ہے۔

روسی وزیر اعظم پوتن نے کہا: ’حقیقت یہ ہے کہ امریکی شہری اس علاقے میں موجود تھے جہاں لڑائی ہو رہی تھی۔ اس بات کا اعتراف کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے رہنماؤں کے براہ راست احکامات کے بعد ہی ایسا کرینگے۔‘

انتخابی وجوہات؟
 یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ میں کسی نے خصوصی طور پر اس تنازعے کو جنم دیا جس کا مقصد یہ تھا کہ حالات کو مزید کشیدہ بنایا جائے جس کے نتیجے میں امریکی صدارت کے امیدواروں میں سے ایک کے لیے مطابقتی برتری حاصل ہوجائے۔
روسی وزیر اعظم پوتن
ولادمیر پوتن نے کہا: ’امریکہ نے در حقیقت جورجیا کی فوج کو مسلح کیا اور تربیت دی۔ قیام امن کے عمل میں ایک مشکل۔۔۔ حل کی ضرورت ۔۔۔ کیوں؟ آسان یہ ہے کہ ایک فریق کو مسلح کریں اور اسے اشتعال دیں کہ دوسرے فریق کا قتل کرے، اور بس کام ہوگیا!‘

انہوں نے مزید کہا: ’یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ میں کسی نے خصوصی طور پر اس تنازعے کو جنم دیا جس کا مقصد یہ تھا کہ حالات کو مزید کشیدہ بنایا جائے جس کے نتیجے میں امریکی صدارت کے امیدواروں میں سے ایک کے لیے برتری حاصل ہوجائے۔‘

حال ہی میں روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند علاقے جنوی اوسیٹیا کو جورجیا نے طاقت کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی جس کے بعد روسی افواج نے مداخلت کی۔ روس کے فوجی مداخلت کے نتیجے میں جنوبی اوسیٹیا اور ایک اور علیحدگی پسند علاقے ابخازیہ سے جورجیا کی افواج کو نکلنا پڑا۔

امریکہ نے کہا ہے کہ روس کو جورجیا میں اپنی فوج کی موجودگی برقرار رکھنے کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈانا پیرینو نے ولادمیر پوتن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ’یہ بات کہنا کہ امریکہ نے ایک سیاسی امیدوار کے لیے اس (لڑائی) کا ڈرامہ رچایہ، یہ منطقی بات نہیں لگتی۔‘

پابندیوں پر غور
 فرانس کے وزیر خارجہ بینار کوُشنیئر نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے کچھ ممالک روس کے خلاف پابندیوں پر غور کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ فرانس نے خود ہی پابندیوں کی تجاویز نہیں دی ہے۔ کوُ شنیئر نے کہا کہ اگر پابندیوں پر غور ہوا تو فرانس یورپی یونین کے موجودہ صدر کی حیثیت سے تمام ستائیس رکن ممالک کے درمیان مفاہمت کی کوشش کرے گا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا مزید کہنا تھا: ’سب سے پہلے تو یہ الزامات گھڑے ہوئے جھوٹ ہیں۔ لیکن ان سے ایسا لگتا ہے کہ ان کے دفاعی اہلکار جنہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر یقین کرتے ہیں (کہ ایک امریکی امیداور کے لیے یہ سب کچھ کیا گیا)، انہیں بلاشبہ غلط مشورہ دے رہے ہیں۔‘

دریں اثناء جورجیا میں روس کی فوجی کارروائی پر سفارتی اختلافات جمعرات کو بھی جاری رہے۔جورجیا کی پارلیمنٹ نے بھی اپنی حکومت سے کہا ہے کہ روس کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑ لے۔

فرانس کے وزیر خارجہ بینار کوُشنیئر نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے کچھ ممالک روس کے خلاف پابندیوں پر غور کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ فرانس نے خود ہی پابندیوں کی تجاویز نہیں دی ہے۔ کوُ شنیئر نے کہا کہ اگر پابندیوں پر غور ہوا تو فرانس یورپی یونین کے موجودہ صدر کی حیثیت سے تمام ستائیس رکن ممالک کے درمیان مفاہمت کی کوشش کرے گا۔

فرانس نے آئندہ پیر کو یورپی یونین کے رہنماؤں کا ایک اجلاس بلایا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے پابندیوں کی بات کو ایک ’بیمار ذہنیت‘ کا اختراع قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بات ایک جذباتی ردعمل ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے پر مغرب ابہام کا شکار ہے۔

دریں اثناء جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جورجیا کے معاملے پر کھلی بحث ہوئی۔ روس نے کونسل کے کچھ اراکین پر شدید تنقید کی جبکہ امریکہ نے روس پر جورجیا کو توڑنے کا الزام لگایا ہے۔

جورجیا نے ابخازیہ میں اقوام متحدہ کی موجودگی اور فوری انسانی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا کے نمائندوں کی شرکت کی درخواستیں بھی جمعرات کو مسترد کردی گئیں۔

امریکہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ’نقل مکانی کرنے والوں اور پناہ گزینوں کی غیرمتوقع اور ہنگامی ضروریات‘ کے لیے پونے چھ ملین ڈالر جورجیا کو دستیاب ہونگے۔

اوسٹیاجورجیا مسئلہ ہے کیا
جنوبی اوسیٹیا والے جورجیا سے آزادی چاہتے ہیں
گوریآنکھوں دیکھا حال
جورجیا کے شہر گوری میں بدلتا ہوا ماحول
اوسیٹیا میں لڑائیاوسیٹیا میں لڑائی
لڑائی جلد روکنے کے لیے کوئی جادوئي چھڑی نہیں
لڑائی اور نقل مکانی
جنوبی اوسیٹیا کا بحران: تصویروں میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد