فورسز جورجیا میں رہیں گی: روس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے کہ اس کی افواج جورجیا کے بندرگاہ پوٹی میں موجود رہیں گی۔ روس کے مطابق اس فیصلے سے امن معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی ہے۔ امریکہ، فرانس اور برطانیہ کا کہنا ہے کہ روس پہلے ہی امن معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے کیونکہ اس نے جورجیا کے علاقوں ابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا کے اگرد گرد بفر زون بنائی ہے۔ روسی جنرل اناتولی نگوِٹسین نے کہا کہ صرف امن فورسز وہاں موجود ہیں اور باقی روسی افواج واپس جاچکی ہیں۔ جنرل نگوِٹسین نے کہا کہ روس پہلے کا سوویت یونین یا شیطانی سلطنت نہیں ہے۔ انہوں نے جورجیا پر الزام لگایا کہ وہ جنوبی اوسیٹیا میں سبوتاژ کی کوششیں کررہا ہے اور اپنی فوج ’مزید کارروائیوں‘ کے لیے تیار کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے وارننگ دی کہ اگر امریکہ جورجیا کی فوج کو ہتھیار فراہم کرتا ہے تو روسی افواج پوٹی میں طویل مدت تک رہیں گی۔ روس نے حال ہی میں ابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا پر فوجی چڑھائی کرکے قبضہ کرلیا تھا اور اس کی فوجیں جورجیا کے دارالحکومت کی طرف مارچ کررہی تھیں جب فرانس نے پہل کرکے امن معاہدہ کرایا تھا۔ جورجیا کا کہنا ہے کہ روس اقتصادی طور پر اس کا گلا گھونٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سنیچر کے روز پوٹی بندرگاہ کے قریب ایک ہزار جورجیائی شہریوں نے وہاں روسی افواج کی موجودگی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ گوری شہر کے پاس روسی افواج کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔ روسی حکومت کا ارادہ ہے کہ اس کے چھبیس سو فوجی ابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا کے بفر زون میں تعینات رہیں گے۔ روس کا اصرار ہے کہ اس نے ماضی کے امن معاہدوں کے تحت ان فوجیوں کی تعیناتی وہاں کی ہے۔ تاہم جنرل نگوِٹسین نے اعتراف کیا کہ پوٹی بندرگاہ، جو کہ ابخازیہ کے بتیس کلومیٹر جنوب میں ہے، اس بفر زون سے کافی دور ہے۔ روسی جنرل نے مغربی ملکوں کے فوجی اتحاد نیٹو پر الزام لگایا کہ وہ بحر اسود میں افواج اکٹھا کرکے حالات کو کشیدہ بنا رہا ہے۔ روسی جنرل کا کہنا تھا کہ اسپین، جرمنی، امریکہ اور پولینڈ کے بحری جہازوں کے بحر اسود میں آنے سے حالات کو بہتر بنانے میں کوئی مدد نہیں مل رہی ہے۔ جورجیا بحر اسود یعنی بلیک سی کے ساحل پر واقع ہے۔ فرانس نے جو چھ نکاتی امن معاہدہ کرایا ہے کہ اس کے تحت روس پر یہ لازم ہے کہ وہ جورجیا میں ’نقل و حمل کی آزادی‘ کےراستے میں رکاوٹیں نہیں کھڑا کرے گا۔ نیٹو کا کہنا ہے کہ اس کی افواج اس علاقے میں پہلے سے طے شدہ پروگرام کےتحت مشقیں کر رہی ہیں جو کہ جورجیا کےتنازعے سے پہلے طے ہوا تھا۔ |
اسی بارے میں روس پر انخلاء کے لیے عالمی دباؤ18 August, 2008 | آس پاس جورجیا بحران پر نیٹو کا اجلاس19 August, 2008 | آس پاس روس کا نیٹو سے فوجی تعاون ’ختم‘21 August, 2008 | آس پاس امریکہ، پولینڈ دفاعی معاہدہ20 August, 2008 | آس پاس روس نے جورجیا پر قرارداد رد کر دی20 August, 2008 | آس پاس دفاعی معاہدے پر روس کی تنبیہ21 August, 2008 | آس پاس روس کا جورجیا سے انخلاء ’مکمل‘23 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||