امریکہ، پولینڈ دفاعی معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اور پولینڈ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت امریکہ پولینڈ میں اپنا متنازع دفاعی میزائل نظام پلانٹ لگائے گا۔ پولینڈ اور امریکہ کے درمیان یہ معاہدہ اٹھارہ مہینوں کی بات چیت کے بعد طے پایا ہے اورمعاہدے پر دستخط کرنے کے لیے امریکہ کی وزیر داخلہ کونڈولیزا رائس پالینڈ کے درارلحکومت وارسو گئی ہیں۔ روس یورپ میں میزائل شیلڈ کی تعیناتی کے امریکی منصوبے کی مخالفت کرتا رہا ہے اور اسے خدشہ ہے کہ معاہدے کے بعد پولینڈ میں یہ پلانٹ نیوکلیر حملوں کا مرکز بن جائے گا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ میزائل شیلڈ امریکہ اور یورپ کو خطرناک ممالک کے میزائل حملوں سے تحفظ فراہم کرے گا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ میزائل شیلڈ کی ضرورت ایران جیسی ’روگ سٹیٹ‘ یعنی خطرناک ممالک کی وجہ سے ہے۔ اس معاہدے کو ابھی پولینڈ کی پارلیمان میں منظوری ملنی ضروری ہے حالانکہ معاہدے پر دستخط کونڈولیزا رائس اور پولینڈ کے وزیر خارجہ راڈیک سرکوزی نے کیے ہیں۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک کا کہنا ہے کہ معاہدہ کرنا مشکل ضرور تھا یہ ایک دوستانہ معاہدہ بھی ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اس معاہدے سے امریکہ اور پولینڈ دونوں زیادہ محفوظ ہوجائیں گے۔ رائس نے معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ نیٹو، پولینڈ اورامریکہ کو 21 ویں صدی کے خطرات سے بچانے میں مدد کرے گا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پولینڈ میں لگائے جانا والا میزائل پلانٹ کسی کو نشانہ بنا کر نہیں لگا یا جارہا ہے بلکہ یہ ایک دفاعی قدم ہے۔ وارسا میں بی بی سے کے نامہ نگار ایڈم ایسٹن کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو یقین ہے کہ پولینڈ میں 10 میزائیل شیلڈز نیٹو پر حملے ہونے سے بچائے گا۔ معاہدے کے تحت امریکہ پولینڈ کی افواج کو جدید تربیت اور اسلحے فراہم کرے گا اور پولینڈ میں امریکی فوجی تعینات کیے جائیں گے۔ امریکہ پیٹریاٹ میزائل بھی دےگا جن سے پولینڈ کی فضائی دفاع مضبوط ہوگا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان جورجیا کے معاملے پر جو کشیدگی پائی جارہی ہے وہ پولینڈ میں میزائل شیلڈ کے منصوبے سے اور بڑھ جائے گی۔ جورجیا میں روسی مداخلت کے بعد پولینڈ کے حکام نے بتایا کہ امریکہ ان کے موقف کا حامی ہوگیا ہے۔ پولینڈ روس کو اپنی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کرتا ہے۔ روس کے ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ایناٹولی نوگوتسین کا کہنا ہے کہ ’ یہ افسوس کی بات ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب جورجیا اور روس کے درمیا ن کشیدگی جاری ہے امریکہ روس اور اسکے رشتے خراب کررہا ہے۔‘ روس کا کہنا ہے کہ میزائل شیلڈ کے نتیجے میں یورپ میں فوجی طاقت کا توازن بکھر جائے گا۔ روس نے وارننگ دی ہے کہ ایسی صورت میں اس کے پاس امریکی میزائل شیلڈ کی جانب اپنے میزائل کا رخ کرنا پڑسکتا ہے۔ لیکن پولینڈ کے صدر لیش کازینسکی کا کہنا ہے میزائل پلانٹ ایک دفاعی قدم ہے۔ جورجیا میں لڑائی شروع ہونے سے پہلے خود پالینڈ میں عام عوام نے امریکہ کے میزائل پلانٹ کے منصوبے کی مخلافت کی تھی۔لیکن ایک سروے میں معلوم ہوا کے روس اور جورجیا میں کیشدگی کے بعد 65 فی صد لوگ اس معاہدے کے حامی ہیں۔ اس سے قبل جولائی میں امریکہ نے چیک جمہوریہ سے بھی ایک ایسا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت میزائل شیلڈ کا نظام قائم کیا جائے گا اور ایک ریڈار بھی نصب کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں پولینڈ، امریکہ میزائل معاہدہ14 August, 2008 | آس پاس ’لزبن معاہدے کی توثیق ابھی نہیں‘01 July, 2008 | آس پاس امریکی میزائل پر روس کا ردعمل 19 February, 2007 | آس پاس افغانستان: پولینڈ فوجی بھیجنے پر تیار14 September, 2006 | آس پاس روس اپنی فوج واپس بلائے: امریکہ15 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||