روس نے جورجیا پر قرارداد رد کر دی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں جورجیا کے مسئلے کے حل کے لیے پیش کی جانے والی قرارداد کا مسودہ مسترد کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں موجود روس کے سفیر نے جورجیا کے مسئلے کے حل کے لیے فرانس کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی ہے کہ اس میں وہ شقیں شامل نہیں جو کہ فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کی جانب سے کروائے جانے والے جنگ بندی معاہدے کا حصہ تھیں۔ فرانس نے امریکی حمایت سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں روس سے جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد اور فوجوں کی واپسی کو کہا گیا تھا۔ اس سے پہلے روس نے نیٹو پر جانبدرانہ رویے کا الزام لگاتے ہوئے اس تنبیہ کو مسترد کر دیا کہ جب تک روسی فوج جورجیا میں موجود ہے روس اور نیٹو کے دیگر رکن ممالک کے تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے۔ ٹیلیویژن پر ایک خطاب میں روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لیوروو نے نیٹو پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تبلیسی میں ایک’مجرم حکومت‘ کو بچا رہی ہے۔ سرگئی لیوروو کا کہنا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نیٹو جارح کو مظلوم بنا کر پیش کرنا چاہتی ہے تاکہ ایک مجرم اور گرتی ہوئی حکومت کو بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ روس نہ تو جورجیا کی سرزمین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی جنوبی اوسیٹیا کو روس کا حصہ بنانے کا کوئی منصوبہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی فوج جنوبی اوسیٹیا میں صرف اس وقت داخل ہوئی تھی جب جورجیا نے بزورِ طاقت جنوبی اوسیٹیا کو اپنا حصہ بنانے کی کوشش کی۔
یاد رہے کہ منگل کو نیٹو کے چھبیس رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد تنظیم نے روس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جورجیا سے فوراً اپنی فوج نکال لے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ’ نیٹو اتحاد روس اور تنظیم کے تعلقات پر روسی کارروائی کے اثرات کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور یہ واضح ہے کہ ہم معمول کے تعلقات برقرار نہیں رکھ سکتے‘۔ ادھر جورجیا کے علاقے گوری سے کچھ روسی فوجیوں کو واپس جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے تاہم علاقے میں موجود بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ روسی توپخانہ اپنی جگہ پر موجود ہے اور دارالحکومت تبلیسی کے نواح میں روسی شناختی چوکیاں بھی قائم ہیں۔ روسی فوجی حکام پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہفتۂ رواں کے اختتام تک تو فوجی انخلاء کا عمل سست روی کا شکار رہےگا اور روسی فوج جنوبی اوسیٹیا کے فرد غیر متعین شدہ’بفر زون‘ میں موجود رہے گی۔ فوجی حکام کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے تحت روس کو اس اقدام کا اس وقت تک حق حاصل ہے جب تک علاقے میں بین الاقوامی امن فوج تعینات نہیں کر دی جاتی۔ |
اسی بارے میں جورجیا بحران پر نیٹو کا اجلاس19 August, 2008 | آس پاس روس پر انخلاء کے لیے عالمی دباؤ18 August, 2008 | آس پاس جورجیا سے روسی انخلاء کا اعلان17 August, 2008 | آس پاس ’فائربندی لیکن فوجی انخلاء نہیں‘17 August, 2008 | آس پاس روس اپنی فوج واپس بلائے: امریکہ15 August, 2008 | آس پاس ’روس فائر بندی نافذ کرے گا‘16 August, 2008 | آس پاس روسی حملے کے دور رس نتائج: امریکہ14 August, 2008 | آس پاس ’جورجیا آپریشن‘ روکنے کا حکم: روس12 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||