دفاعی معاہدے پر روس کی تنبیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور پولینڈ کے میزائل معاہدے سے یورپ اور یورپ سے باہر ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔ روس کا یہ بیان امریکہ اور پولینڈ کی جانب سے متنازعہ میزائل نظام کی تنصیب کے معاہدے پر دستخظ کے بعد سامنے آیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کے اس بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی میزائل نظام سے متعلق اس پیشرفت پر روس کا جواب صرف سفارتی کوششوں تک محدود نہیں رہے گا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ میزائل نظام کی تنصیب کا مقصد امریکہ اور یورپ کو ایران جیسی’سرکش‘ ریاستوں کے میزائل حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ تاہم روس کے صدر دمتری میدویدیو نے کہا ہے کہ یہ صاف ظاہر ہے کہ میزائل نظام کا ہدف ایران یا کوئی اور ملک نہیں بلکہ روس ہے۔ یاد رہے کہ بدھ کو ہی نیٹو میں روسی سفیر نے روس اور نیٹو کے تعلقات کو ایک دوسرے سے ناراض ایسے میاں بیوی کے تعلقات جیسے قرار دیا جن کو ایک دوسرے سے سے کچھ دیر الگ رہنے کی ضرورت ہے۔ تاہم سفیر کا کہنا تھا کہ ایران کے معاملے پر روس مغربی ممالک سے تعاون کرتا رہے گا۔ پولینڈ اور امریکہ کے درمیان دفاعی معاہدہ اٹھارہ ماہ کی بات چیت کے بعد طے پایا ہے اور اسے ابھی پولینڈ کی پارلیمان میں منظوری ملنی ضروری ہے۔ معاہدے کی تکمیل کے لیے امریکہ کی وزیر داخلہ کونڈولیزا رائس پولینڈ پہنچیں اور پولینڈ کے وزیر خارجہ راڈیک سرکوزی کے ہمراہ اس معاہدے پر دستخط کیے۔ پولینڈ کے وزیراعظم ڈونالڈ ٹسک کا کہنا ہے کہ معاہدہ کرنا مشکل ضرور تھا اور یہ ایک دوستانہ معاہدہ بھی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاہدے سے امریکہ اور پولینڈ دونوں زیادہ محفوظ ہوجائیں گے۔ معاہدے کے تحت امریکہ پولینڈ کی افواج کو جدید تربیت اور اسلحے فراہم کرے گا اور پولینڈ میں امریکی فوجی تعینات کیے جائیں گے۔ امریکہ پیٹریاٹ میزائل بھی دےگا جن سے پولینڈ کی فضائی دفاع مضبوط ہوگا۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے معاہدے پر دستخطوں کی تقریب کے بعد کہا کہ یہ معاہدہ نیٹو، پولینڈ اورامریکہ کو اکیسویں صدی کے خطرات سے بچانے میں مدد کرے گا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان جورجیا کے معاملے پر جو کشیدگی پائی جارہی ہے وہ پولینڈ میں میزائل شیلڈ کے منصوبے سے اور بڑھ جائے گی۔ جورجیا میں روسی مداخلت کے بعد پولینڈ کے حکام نے بتایا کہ امریکہ ان کے موقف کا حامی ہوگیا ہے۔ پولینڈ روس کو اپنی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کرتا ہے۔ اس سے قبل جولائی میں امریکہ نے چیک جمہوریہ سے بھی ایک ایسا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت میزائل شیلڈ کا نظام قائم کیا جائے گا اور ایک ریڈار بھی نصب کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں پولینڈ، امریکہ میزائل معاہدہ14 August, 2008 | آس پاس ’لزبن معاہدے کی توثیق ابھی نہیں‘01 July, 2008 | آس پاس امریکی میزائل پر روس کا ردعمل 19 February, 2007 | آس پاس افغانستان: پولینڈ فوجی بھیجنے پر تیار14 September, 2006 | آس پاس روس اپنی فوج واپس بلائے: امریکہ15 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||