روس کا جورجیا سے انخلاء ’مکمل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس نے کہا کہ اس کی لڑاکا فوج جورجیا سے نکل گئی ہے لیکن ڈھائی ہزار ’امن فوجی‘ جورجیا میں رہیں گے۔ امریکہ، اور فرانس نے روس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس معاہدے کے مطابق اپنی فوج کو جورجیا سے واپس نہیں بلایا ہے۔ امریکہ اور فرانس کا موقف ہے کہ روس نے جورجیا کے اندر چیک پوسٹیں قائم کر کے وہاں اپنی فوج تعینات کر رکھی ہے جو اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت روس کو اپنی فوج کو جورجیا سے واپس بلانا تھا۔ روس نے دو ہفتے قبل اس وقت اپنی فوج کو جورجیا میں بھیج دیا تھا جب جورجیا کی فوجوں نے جنوبی اوسیٹیا کا کنٹرول حاصل کرنےکی کوشش کی تھی۔ گزشتہ دو ہفتوں میں روسی فوج نے جورجیا کی فوجی اہمیت کے ٹھکانے کو ملبے کا ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ جورجیا جو سابق سویت یونین کا حصہ تھا، نیٹو میں شامل ہونے کا خواہاں ہے ۔ روس جورجیا کے نیٹو میں شمولیت کا مخالف ہے اور الزام لگاتا رہا ہے کہ امریکہ جورجیا کو ہتھیار اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔ جورجیا کے صدر میخائل ساکاشویلی کو اپنی توقعات سے کم عالمی حمایت مل سکی ہے۔ جمعہ کے روز روسی کی وزارت دفاع نے اعلان کیا تھا کہ اس کی لڑاکا فوج جورجیا سے نکل آئی ہے لیکن ڈھائی ہزار فوجی جنوبی اوسیٹیا اور ابخازیہ کے گرد بنائے جانے والے حفاظتی حصار میں رہیں گے۔ ایک روز قبل روس نے نیٹو کے ساتھ دفاعی تعاون کو روکنے کا اعلان کیا تھا۔ روسی وزیر خارجہ نے نیٹو کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تنظیم کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس کے لیے جورجیا کے صدر کی حمایت زیادہ اہم ہے یا وہ روس کے ساتھ مربوط تعلقات۔ جورجیا کے ساتھ محاذ آرائی کے بعد روس کا موقف رہا ہے کہ اس کے کم از کم پانچ سو فوجی ’ذمہ داری کے زون‘ میں رہیں گے۔ روس کا موقف ہے کہ وہ جورجیا اور اوسیٹیا کے درمیان کے ایک حفاظتی حصار قائم کرے گا تاکہ جارجیا آئندہ اوسیٹیا کے خلاف جارحیت نہ کر سکے۔ ادھر جورجیا سے علیحدگی کے خواہاں علاقوں، جنوبی اوسیٹیا اور ابخازیا میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے جارجیا سے آزادی کے لیے سڑکوں پر مارچ کیا۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ روس نیٹو پر اپنے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا لیکن نیٹو کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا اس کے لیے جورجیا کےصدر میخائل ساکاشولی کی حمایت زیادہ اہم ہے یا روس کے ساتھ پائیدار تعاون۔ | اسی بارے میں جورجیا: قیامِ امن کیلیے مشترکہ مشن09 August, 2008 | آس پاس جورجیا: کئی حصوں پر روسی قبضہ11 August, 2008 | آس پاس ’روس فائر بندی نافذ کرے گا‘16 August, 2008 | آس پاس پولینڈ، امریکہ میزائل معاہدہ14 August, 2008 | آس پاس ’لزبن معاہدے کی توثیق ابھی نہیں‘01 July, 2008 | آس پاس امریکی میزائل پر روس کا ردعمل 19 February, 2007 | آس پاس افغانستان: پولینڈ فوجی بھیجنے پر تیار14 September, 2006 | آس پاس روس اپنی فوج واپس بلائے: امریکہ15 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||