’اوسیٹیا، ابخازیہ کی آزادی تسلیم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس نے جورجیا سے علیحدگی اختیار کرنے والے علاقوں جنوبی اوسیٹیا اور ابخاریہ کو بطور آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ روسی پارلیمان نے پیر کو متفقہ طور پر جورجیا کے دو صوبوں ابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا کی مکمل آزادی کی حمایت کی تھی۔ ان خطوں کی آزادی کو تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے روس کے صدر دمیتری میدویدو نے کہا کہ ’میں نے روس کی جانب سے جنوبی اوسیٹیا اور ابخارزیہ کی آزادی کو تسلیم کرنے کے اعلان پر دستخط کردیے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’ یہ میرے لیے آسان فیصلہ نہیں تھا لیکن لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے یہ واحد حل تھا‘۔ یاد رہے کہ امریکی صدر جارج بش نے روس کو اس عمل سے باز رہنے کو کہا تھا اور مبصرین کے مطابق اب روس اور مغربی ممالک کے درمیان تناؤ مزید بڑھے گا۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ان دونوں خطوں کی آزادی کو تسلیم کیا جانا جورجیا کی ’علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی‘ تصور کیا جائے گا اور یہ عمل ’بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگا‘۔ واضح رہے کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے ساتھ انیس سو اکیانوے بانوے میں آزادی کی جنگ کے بعد جنوبی اوسیٹیا اور ابخازيہ نے خود مختاری کا اعلان کردیا تھا لیکن ابھی تک کسی بھی بیرونی ملک نے انہیں آزاد ممالک کے طور پر قبول نہیں کیا تھا جبکہ روس ان دونوں خطوں کو اقتصادی اور سفارتی امداد اور فوجی تحفظ فراہم کرتا رہا ہے۔ حال ہی میں روس اور جورجیا کے درمیان لڑائی میں روس نےابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا پر فوجی چڑھائی کر کے قبضہ کرلیا تھا اور اس کی فوجیں جورجیا کے دارالحکومت کی طرف بڑھ رہی تھیں کہ فرانس نے اس معاملے میں پڑ کے امن معاہدہ کرایا تھا۔ |
اسی بارے میں آزاد جنوبی اوسیٹیا، ابخازیہ کی حمایت25 August, 2008 | آس پاس جورجیا: قیامِ امن کیلیے مشترکہ مشن09 August, 2008 | آس پاس جورجیا: کئی حصوں پر روسی قبضہ11 August, 2008 | آس پاس ’روس فائر بندی نافذ کرے گا‘16 August, 2008 | آس پاس پولینڈ، امریکہ میزائل معاہدہ14 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||