ترک حملے میں ’درجنوں ہلاک‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کی فوج کا کہنا ہے کہ عراق کے شمالی حصے میں اس کے بری حملے میں ’درجنوں‘ کرد باغی جبکہ پانچ ترک فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ ترکی کا کہنا ہے کہ فضائی اور توپ خانے کی بمباری کے بعد باغیوں سے دو بدو لڑائی کے لیے اس کی بری افواج نے جمعرات کے آخری پہر عراق کی سرحد عبور کی۔ ترکی کے وزیراعظم طیب رجب اردوگان کا کہنا ہے کہ حملہ محدود پیمانے پر کیا گیا ہے اور جتنی جلد ممکن ہوا فوجی دستے اپنی سابقہ پوزیشنوں پر واپس آجائیں گے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور امریکہ نے ترکی سے کارروائی روکنے کے لیے کہا ہے۔ ترکی کی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کی روشنی میں یہ بات قابل فہم ہے کہ دور مار ہتھیاروں اور فضائی حملوں کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جھڑپوں میں چوبیس کرد باغی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دیگر بیس کرد باغی توپ کے گولوں اور گن شپ ہیلی کاپٹر کی فائرنگ کا نشانہ بنے ہیں۔
اس سے قبل کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ایک ترجمان احمد داناس نے کہا تھا کہ لڑائی میں دو ترک فوجی ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوئے ہیں تاہم آزاد ذرائع سے دونوں باتوں کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔ ترکی کے وزیراعظم طیب رجب اردوگان نے ترک ٹی وی پر بتایا تھا کہ اس آپریشن کا دائرہ کار، اہداف اور مقاصد محدود ہیں۔ ان کا کہنا تھا:’ہماری مسلح افواج جتنی جلد ممکن ہوا اپنے مقاصد میں کامیابی کے بعد اپنی سابقہ پوزیشنوں پر لوٹ آئیں گی‘۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد پی کے کے کو تنہا کرنا اور انہیں عراق کے شمالی حصے سے ترک سر زمین پر حملے کرنے سے روکنا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اسے پہلے ہی اس حملے کی اطلاع دے دی گئی تھی اور اس نے ترکی سے کہا تھا کہ وہ فوجی کارروائی کا دائرہ ترک باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے تک محدود رکھے۔ ترکی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں تین سے دس ہزار فوجیوں نے حصہ لیا تاہم سینئر عراقی کرد ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ترکی نے فوجی کارروائی کے بارے میں مبالغے سے کام لیا ہے جبکہ حملہ بہت ہی محدود اور دور دراز سرحدی علاقے میں کیا گیا ہے۔ ترک فوج کا کہنا ہے کہ اس کی بری فوج نے جسے فضائیہ کی پشت پناہی بھی حاصل تھی جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق سات بجے بین السرحدی بری کارروائی کا آغاز کیا۔ گزشتہ سال اکتوبر میں ترک پارلیمان کی جانب سے فوج کو عراق پر حملوں کی منظوری ملنے کے بعد ترکی نے عراق میں ’پی کے کے‘ کے مشتبہ ٹھکانوں پر ایک زمینی حملہ جبکہ فضائی اور توپ خانوں سے مسلسل حملے کیے ہیں۔
استنبول سے بی بی سی کی نامہ نگار سارا رینسفورڈ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے لیے یہ وقت خاصا غیر متوقع ہے کیونکہ ان دنوں سرحدی پہاڑی علاقہ برف سے ڈھکا ہوا ہے اور دوسری طرف کرد باغیوں نے بھی خاصے عرصے سے ترک سر زمین پر قابل ذکر کارروائیاں نہیں کی ہیں۔ ترکی کے جنوب مشرقی حصے میں ایک علیحدہ کرد ریاست کے قیام کے لیے سنہ1984 میں شروع ہونے والی ’پی کے کے‘ کی لڑائی میں اب تک تیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ، یورپی یونین اور ترکی ’پی کے کے‘ کو ایک دہشت گرد تنظیم گردانتے ہیں۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت سب سے اہم مسئلہ دونوں اطراف سرحدی علاقوں میں معصوم جانوں کا تحفظ ہے۔ |
اسی بارے میں ترکی: سرحد پار آپریشن کی دھمکی09 October, 2007 | آس پاس عراق دہشتگردوں سے دور ہو: ترکی 16 October, 2007 | آس پاس ترک فوج عراق میں گھس گئی18 December, 2007 | آس پاس ترکی عراق میں فوج بھیج سکتا ہے: طیب23 October, 2007 | آس پاس ’ترکی کی حمایت کرتے ہیں‘ 25 December, 2007 | آس پاس ترکی: انتخابات، فوج کی وارننگ28 April, 2007 | آس پاس عراق، القاعدہ کے ٹھکانوں پر بمباری 11 January, 2008 | آس پاس عراقی خانہ جنگی کے پھیلاؤ کاخطرہ09 April, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||