BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 February, 2008, 11:53 GMT 16:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترک حملے میں ’درجنوں ہلاک‘
ترکی کی فوج کی کارروائی
شمالی عراق میں حالیہ ترک کارروائی سے قبل فضائی بمباری کی گئی
ترکی کی فوج کا کہنا ہے کہ عراق کے شمالی حصے میں اس کے بری حملے میں ’درجنوں‘ کرد باغی جبکہ پانچ ترک فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترکی کا کہنا ہے کہ فضائی اور توپ خانے کی بمباری کے بعد باغیوں سے دو بدو لڑائی کے لیے اس کی بری افواج نے جمعرات کے آخری پہر عراق کی سرحد عبور کی۔

ترکی کے وزیراعظم طیب رجب اردوگان کا کہنا ہے کہ حملہ محدود پیمانے پر کیا گیا ہے اور جتنی جلد ممکن ہوا فوجی دستے اپنی سابقہ پوزیشنوں پر واپس آجائیں گے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور امریکہ نے ترکی سے کارروائی روکنے کے لیے کہا ہے۔

ترکی کی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کی روشنی میں یہ بات قابل فہم ہے کہ دور مار ہتھیاروں اور فضائی حملوں کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ جھڑپوں میں چوبیس کرد باغی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دیگر بیس کرد باغی توپ کے گولوں اور گن شپ ہیلی کاپٹر کی فائرنگ کا نشانہ بنے ہیں۔

کرد باغی
خیال کیا جاتا ہے کہ کرد باغی شمالی عراق سے ترک سر زمین پر حملے کرتے ہیں

اس سے قبل کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ایک ترجمان احمد داناس نے کہا تھا کہ لڑائی میں دو ترک فوجی ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوئے ہیں تاہم آزاد ذرائع سے دونوں باتوں کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

ترکی کے وزیراعظم طیب رجب اردوگان نے ترک ٹی وی پر بتایا تھا کہ اس آپریشن کا دائرہ کار، اہداف اور مقاصد محدود ہیں۔ ان کا کہنا تھا:’ہماری مسلح افواج جتنی جلد ممکن ہوا اپنے مقاصد میں کامیابی کے بعد اپنی سابقہ پوزیشنوں پر لوٹ آئیں گی‘۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد پی کے کے کو تنہا کرنا اور انہیں عراق کے شمالی حصے سے ترک سر زمین پر حملے کرنے سے روکنا ہے۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اسے پہلے ہی اس حملے کی اطلاع دے دی گئی تھی اور اس نے ترکی سے کہا تھا کہ وہ فوجی کارروائی کا دائرہ ترک باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے تک محدود رکھے۔

ترکی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں تین سے دس ہزار فوجیوں نے حصہ لیا تاہم سینئر عراقی کرد ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ترکی نے فوجی کارروائی کے بارے میں مبالغے سے کام لیا ہے جبکہ حملہ بہت ہی محدود اور دور دراز سرحدی علاقے میں کیا گیا ہے۔

ترک فوج کا کہنا ہے کہ اس کی بری فوج نے جسے فضائیہ کی پشت پناہی بھی حاصل تھی جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق سات بجے بین السرحدی بری کارروائی کا آغاز کیا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں ترک پارلیمان کی جانب سے فوج کو عراق پر حملوں کی منظوری ملنے کے بعد ترکی نے عراق میں ’پی کے کے‘ کے مشتبہ ٹھکانوں پر ایک زمینی حملہ جبکہ فضائی اور توپ خانوں سے مسلسل حملے کیے ہیں۔

ترک فوجی
ترک فوج کے مطابق کارروائی میں توپ خانے اور گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے

استنبول سے بی بی سی کی نامہ نگار سارا رینسفورڈ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے لیے یہ وقت خاصا غیر متوقع ہے کیونکہ ان دنوں سرحدی پہاڑی علاقہ برف سے ڈھکا ہوا ہے اور دوسری طرف کرد باغیوں نے بھی خاصے عرصے سے ترک سر زمین پر قابل ذکر کارروائیاں نہیں کی ہیں۔

ترکی کے جنوب مشرقی حصے میں ایک علیحدہ کرد ریاست کے قیام کے لیے سنہ1984 میں شروع ہونے والی ’پی کے کے‘ کی لڑائی میں اب تک تیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ، یورپی یونین اور ترکی ’پی کے کے‘ کو ایک دہشت گرد تنظیم گردانتے ہیں۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت سب سے اہم مسئلہ دونوں اطراف سرحدی علاقوں میں معصوم جانوں کا تحفظ ہے۔

کردوں کی حالت زار
صلاح الدین ایوبی کی قوم چومکھی جبر کا شکار
ترکی استنبولیورپی یونین اور ترکی
یورپ میں ترکی کے حامی اور مخالف کون کون؟
عراقکون کہاں آباد ہے؟
عراقی آبادی کی مذہبی اور نسلی تقسیم کا نقشہ
عراقعراق کےحساس علاقے
عراق کی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی نقشہ
مزاحمت کےدو سال
عراقی جنگ سے کس کو فائدہ ہوا کس کو نقصان
اسی بارے میں
ترک فوج عراق میں گھس گئی
18 December, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد