’شوہر کو فوری طور پر رہا کیا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومتی ایجنسیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر گزشتہ ڈیڑہ سال سے زائد عرصے تک غائب رہنے والے امریکی شہری اور سندھی قوم پرست رہنما صفدر سرکی کی اہلیہ نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کو انکے شوہر کو فوری طور پر رہا کر کردینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ رہائی کے بعد ان کے شوہر پاکستان اور اسکی سیاست کا نام نہیں لیں گے۔ پارس سرکی سپریم کورٹ کے حکم پر صفدر سرکی کے منظرعام پر لائے جانے پر ریاست کیلیفورینا کے شہر بوبا سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کر رہی تھیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صفدر سرکی کو پولیس کی تحویل میں ظاہر کرنے کے بعد بھی ان پر تشدد کیا جا رہا ہوگا اور اسی لیے انکی زندگی کو اب بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے بلوچستان پولیس کی طرف سے ڈاکٹرصفدر کی تازہ گرفتاری کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں صفدر کے دوستوں کی توسط سے چار پانچ ماہ قبل معلوم ہو گیا تھا کہ وہ بلوچستان میں فوج اور پولیس کی ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صفدر سرکی پر اسلحہ رکھنے کا الزام غلط ہے کیونکہ ’وہ کسی بھی شخص اور ملک کے خلاف نہیں تو پاکستان کے خلاف کیوں ہونگے۔ البتہ سندھ کی دھرتی ان کی ماں ہے اور کوئی بھی شخص اپنی ماں کے خلاف بری بات نہیں سن سکتا۔ بس صفدر کا بھی صرف یہی قصور ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صفدر سرکی ایک دفعہ پاکستان سے آزاد ہوکر امریکہ آنے کے بعد پلٹ کر بھی پاکستان اور اسکی سیاست کی طرف نہیں دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا انہیں پتہ ہے کہ ان کے خاندان نے انتہائی جذباتی اور مالی نقصانات اٹھائے ہیں اور وہ اسکے مزید متحمل نہیں ہو سکتے۔ پارس سرکی نے بتایا کہ ڈاکٹر صفدر سرکی فروری دو ہزار چھ میں گرفتاری سے قبل اپنی بہن کے علاج کے سلسلے میں بیرون ملک جا رہے تھے کہ ریاستی ایجنسیوں کے ہاتھوں غائب کردیے گئے۔ قوم پرست رہنماء کی اہلیہ نے کہا کہ انہیں اور انکے دو بیٹوں کو صفدر سرکی کو ظاہر کیے جانے پر بےحد خوشی ہے کیونکہ ’کچھ عرصہ قبل تک تو ہمیں انکے زندہ ہونے کا بھی یقین نہیں تھا۔‘ پارس سرکی نے بتایا کہ امریکی شہری ہونے کے ناطے صفدر سرکی کی گمشدگی سے لیکر اب تک ان کا امریکی محکمہ خارجہ سے مسلسل رابطہ رہا ہے اورانہوں نے امریکی حکومت کوصفدر کے ظاہر کیے جانے پر آگاہ کردیا ہے۔ پارس نے کہا کہ پاکستانی حکومت صفدر کو فوراً رہا کر دے تاکہ وہ اپنے خاندان والوں سے آ کر ملیں اور ’مجھے یقین ہے کہ وہ ایک ایسا شخص ہے جو کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور ہم لوگ صرف امن چاہتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ انہیں ’ یقین ہے کہ صفدر سیاست چھوڑ دے گا کیونکہ اس وجہ سے انکے خاندان نے ناقابل تلافی ٹارچر برداشت کیا ہے۔‘ اپنے دونوں بیٹوں الاہی بخش اور جی ایم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ بھی پاکستانی حکومت سے اپنے والد کی فوری رہائي کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پارس سرکی نے مزید کہا کہ صفدر کی پارٹی اور دوستوں نے ان کی رہائي کے لیے زبردست محنت کی ہے۔ |
اسی بارے میں گرفتاریاں باقاعدہ بنائیں: عدالت11 October, 2007 | پاکستان سندھی رہنماء کی رہائی کے لیے پٹیشن22 August, 2007 | پاکستان ’لاپتہ افراد کی تلاش میں حکومت ناکام‘03 July, 2006 | پاکستان سندھی رہنما پولیس تحویل میں17 March, 2007 | پاکستان لاپتہ رہنماء اورگیارہ اکتوبر کا انتظار09 October, 2007 | پاکستان آصف بالادی کے اہلخانہ کا احتجاج14 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||