دنیا امریکہ کی مقروض ہے: براؤن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ دنیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قیادت کرنے پرامریکہ کی مقروض ہے۔ امریکی صدر بش کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات سے پہلے گورڈن براؤن نے امریکہ اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو برطانیہ کے ’سب سے زیادہ اہم دو طرفہ تعلقات‘ سے تعبیر کیا ہے۔ گورڈن براؤن اتوار کی رات واشنگٹن پہنچے ہیں۔ توقع ہے کہ پیر کو کیمپ ڈیوڈ میں گورڈن براؤن اور صدر بش کے درمیان مذاکرات کے موقع پر برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ اور ان کی امریکی ہم منصب کونڈولیزا رائس بھی موجود ہوں گے۔ توقع کی جاری رہی ہے کہ ان مذاکرات میں جن موضوعات پر بات چیت ہو گی ان میں عراق، افغانستان، مشرق وسطیٰ، دارفور، کوسووو، عالمی تجارت اور موسمیاتی تبدیلی شامل ہوں گے۔ برطانوی وزیر اعظم کے دورے کے دوران تجزیہ کاروں کی نظر ان اشارات پر ہو گی جن سے ظاہر ہوگا کہ گورڈن براؤن خود کو امریکہ سے کیسے دور رکھتے ہیں۔ پرائیویٹ ضیافت اتوار کی رات واشنگٹن پہنچنے کے بعد گورڈن براؤن کیمپ ڈیوڈ کے لیے پرواز کر گئے جہاں انہوں نے صدر بش کے ساتھ تہنائی میں پرائیویٹ ڈنر کرنا تھا۔ پیر کی صبح انہیں واشنگٹن میں سینیٹ اور کانگریس کے ارکان سے ملنا ہے جن میں امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں کے ارکان نے شرکت کرنا ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں برطانوی دفتر خارجہ کے وزیر لارڈ براؤن نے کہا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ برطانیہ ایک ’غیر جانبدار‘ خارجہ پالیسی اپنائے اور یورپی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات بڑھائے لیکن اتوار کو لندن سے امریکہ کی پرواز کے دوران گورڈن براؤن نے خود کو امریکہ کے ایک بڑے معترف کے طور پر پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بطور وزیر اعظم میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہوں گا۔‘ گورڈن براؤن کا کہنا تھا کہ ’ یہ برطانوی مفادات کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات مضبوط رہیں، یہ برطانیہ کے سب سے زیادہ اہم دوطرفہ تعلقات ہیں۔‘ برطانوی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ مشترکہ تاریخی حوالوں کی وجہ سے برطانیہ اور امریکہ ’ کی منزلیں ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں۔‘ اپنی گفتگو میں انہوں نے کیمپ ڈیوڈ جانے والے پہلے برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے ایک بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں چرچل نے بھی ’مشترکہ اثاثے‘ کی بات کی تھی۔ گورڈن براؤن کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعلقات سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف جنگ، عالمی غربت، عالمی حدت اور عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی۔ ’ ہمیں چاہیئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جس طرح امریکہ نے دنیا کی قیادت کی ہے، ہم اس کا اعتراف کریں۔ |
اسی بارے میں انسداد دہشتگردی بِل کی منظوری 28 July, 2007 | آس پاس دہشت گردی پر نیا امریکی قانون29 September, 2006 | آس پاس ’دہشت گردی‘ کے خلاف جیت کا عزم12 July, 2005 | آس پاس دہشت گردی کےخلاف نیا قانون17 July, 2005 | آس پاس دہشت گرد منصوبہ اور امریکی میڈیا16 August, 2006 | آس پاس امریکہ، دہشت گردی کا خوف17 February, 2005 | آس پاس ’دہشت گردوں کو نہیں چھوڑیں گے‘12 September, 2004 | آس پاس مدد،مؤکل کی یا دہشتگردی کی؟11 February, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||