BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 July, 2007, 07:11 GMT 12:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دنیا امریکہ کی مقروض ہے: براؤن
گورڈن براؤن اور صدر بش
کیپمپ ڈیوڈ بات چیت سے پہلے صدر بش نے برطانوی وزیر اعظم کا استقبال کیا
برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ دنیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قیادت کرنے پرامریکہ کی مقروض ہے۔

امریکی صدر بش کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات سے پہلے گورڈن براؤن نے امریکہ اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو برطانیہ کے ’سب سے زیادہ اہم دو طرفہ تعلقات‘ سے تعبیر کیا ہے۔

گورڈن براؤن اتوار کی رات واشنگٹن پہنچے ہیں۔

توقع ہے کہ پیر کو کیمپ ڈیوڈ میں گورڈن براؤن اور صدر بش کے درمیان مذاکرات کے موقع پر برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ اور ان کی امریکی ہم منصب کونڈولیزا رائس بھی موجود ہوں گے۔

توقع کی جاری رہی ہے کہ ان مذاکرات میں جن موضوعات پر بات چیت ہو گی ان میں عراق، افغانستان، مشرق وسطیٰ، دارفور، کوسووو، عالمی تجارت اور موسمیاتی تبدیلی شامل ہوں گے۔

برطانوی وزیر اعظم کے دورے کے دوران تجزیہ کاروں کی نظر ان اشارات پر ہو گی جن سے ظاہر ہوگا کہ گورڈن براؤن خود کو امریکہ سے کیسے دور رکھتے ہیں۔

پرائیویٹ ضیافت
بی بی سی کے سیاسی امور کے نامہ نگار نِک رابنسن کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئےگورڈن براؤن قدرے محتاط ہوں گے۔انہیں امریکہ کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات بہت اہم ہیں تاہم دوسری جانب انہیں برطانوی ووٹروں کو بھی قائل کرنا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے رابطے ٹونی بلیئر کے دور سے بہرحال مختلف ہوں گے۔

اتوار کی رات واشنگٹن پہنچنے کے بعد گورڈن براؤن کیمپ ڈیوڈ کے لیے پرواز کر گئے جہاں انہوں نے صدر بش کے ساتھ تہنائی میں پرائیویٹ ڈنر کرنا تھا۔

پیر کی صبح انہیں واشنگٹن میں سینیٹ اور کانگریس کے ارکان سے ملنا ہے جن میں امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں کے ارکان نے شرکت کرنا ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں برطانوی دفتر خارجہ کے وزیر لارڈ براؤن نے کہا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ برطانیہ ایک ’غیر جانبدار‘ خارجہ پالیسی اپنائے اور یورپی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات بڑھائے لیکن اتوار کو لندن سے امریکہ کی پرواز کے دوران گورڈن براؤن نے خود کو امریکہ کے ایک بڑے معترف کے طور پر پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بطور وزیر اعظم میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہوں گا۔‘

گورڈن براؤن کا کہنا تھا کہ ’ یہ برطانوی مفادات کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات مضبوط رہیں، یہ برطانیہ کے سب سے زیادہ اہم دوطرفہ تعلقات ہیں۔‘

برطانوی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ مشترکہ تاریخی حوالوں کی وجہ سے برطانیہ اور امریکہ ’ کی منزلیں ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں۔‘ اپنی گفتگو میں انہوں نے کیمپ ڈیوڈ جانے والے پہلے برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے ایک بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں چرچل نے بھی ’مشترکہ اثاثے‘ کی بات کی تھی۔

گورڈن براؤن کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعلقات سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف جنگ، عالمی غربت، عالمی حدت اور عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی۔ ’ ہمیں چاہیئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جس طرح امریکہ نے دنیا کی قیادت کی ہے، ہم اس کا اعتراف کریں۔

امریکی سینٹنیا امریکی قانون
پاکستان کی مدد انسدادِ دہشتگردی سے مشروط
دہشت کی نفسیات
جنگیں انسانی ذہنوں میں شروع ہوتی ہیں۔
اسی بارے میں
امریکہ، دہشت گردی کا خوف
17 February, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد