کوکونٹ اور ایشیائی تارکین وطن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں رہائش پذیر جنوب ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے باشندوں کی ایک تہائی تعداد خود کو برطانوی نہیں سمجھتی۔ بی بی سی کے ساؤتھ ایشیا نیٹ ورک کے لیے کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کے جنوبی ایشیائی باشندوں میں سے اڑتیس فیصد خود کو یا تو بہت تھوڑا برطانوی محسوس کرتے ہیں یا پھر بالکل ہی نہیں۔ اس تحقیق کے دوران جن لوگوں سے رائے لی گئی ان میں سے ایک تہائی کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں رہنے کے لیے انہیں ’کوکونٹ‘ یعنی ناریل بننا ہوگا۔ کوکونٹ کو کسی ایسے شخص کے لیے بطور اصطلاح استعمال کیا جاتا ہے جو باہر سے ’براؤن‘ اور اندر سے ’وائٹ‘ ہو۔ تاہم چوراسی فیصد جنوبی ایشیائی باشندوں کے مطابق وہ برطانیہ میں مطمئن زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں یہاں آگے بڑھنے کے زیادہ مواقع میسر ہیں۔ بی بی سی کی تحقیق کے لیے انٹرویو کیے گئے نصف جنوبی ایشیائی باشندوں اور دو تہائی گوروں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ تارکین وطن کے لیے برطانیہ میں سکونت پذیر ہونا آسان ہے۔ شناخت کی اہمیت تین چوتھائی جنوبی ایشیائی باشندوں کا خیال تھا کہ برطانیہ میں رہنے کی وجہ سے ان کی ثقافت زائل ہوتی جا رہی ہے جبکہ تقریباً نصف کا کہنا تھا کہ گورے لوگ ان سے برطانوی شہریوں جیسا سلوک نہیں کرتے۔
بی بی سی نے یہ تحقیق اس وقت کرائی ہے جب پاکستان اور بھارت اس سال اپنی آزادی کی ساٹھویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ سروے میں شامل کیے گئے جنوبی ایشیائی باشندوں میں سے بارہ فیصد کا کہنا تھا کہ وہ خود کو کوکونٹ سمجھتے ہیں۔ ایشیائی نوجوانوں کے ساتھ کام کرنے والے ایک ادارے ’کنیکٹ انڈیا‘ کی ڈائریکٹر مینال سچدیو کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ایشیائی برطانوی شہریوں کا کامیابی کے لیے کوکونٹ بننا ضروری نہیں ہے۔ ’شناخت کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے، میں انڈین برطانوی ہونے میں بڑا پر اعتماد محسوس کرتی ہوں۔‘ ماہانہ میگزین ’آئیکونز‘ کی ایڈیٹر رینا کومبو کہتی ہیں ’میں خود کو برطانوی محسوس کرتی ہوں، لیکن اتنا ہی ایشیائی بھی۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کچھ ایشیائی برطانوی کوکونٹ بننے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ معاشرے میں قبولیت چاہتے ہیں وگرنہ انہیں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ |
اسی بارے میں امیر ترین برطانوی ایشیائی نوجوان17 October, 2006 | آس پاس ساڑھے چار لاکھ نئے یورپی تارکین وطن22 August, 2006 | آس پاس برطانیہ: خارجہ پالیسی اور شدت پسندی21 August, 2006 | آس پاس ’ہم کوئی مجرم نہیں ہیں‘02 May, 2006 | آس پاس برطانوی شہریت، غیرمعمولی تاخیر13 February, 2006 | آس پاس ویلز میں نسلی جرائم میں اضافہ10 August, 2005 | آس پاس تارکین وطن: سرمائے کا اہم ذریعہ10 April, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||