BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 July, 2007, 02:54 GMT 07:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوکونٹ اور ایشیائی تارکین وطن
ایشیائی
بعض ایشیائی باشندوں کے خیال میں برطانیہ میں رہنے کیوجہ سے ان کی ثقافت زائل ہوتی جا رہی ہے
برطانیہ میں رہائش پذیر جنوب ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے باشندوں کی ایک تہائی تعداد خود کو برطانوی نہیں سمجھتی۔

بی بی سی کے ساؤتھ ایشیا نیٹ ورک کے لیے کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کے جنوبی ایشیائی باشندوں میں سے اڑتیس فیصد خود کو یا تو بہت تھوڑا برطانوی محسوس کرتے ہیں یا پھر بالکل ہی نہیں۔

اس تحقیق کے دوران جن لوگوں سے رائے لی گئی ان میں سے ایک تہائی کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں رہنے کے لیے انہیں ’کوکونٹ‘ یعنی ناریل بننا ہوگا۔ کوکونٹ کو کسی ایسے شخص کے لیے بطور اصطلاح استعمال کیا جاتا ہے جو باہر سے ’براؤن‘ اور اندر سے ’وائٹ‘ ہو۔

تاہم چوراسی فیصد جنوبی ایشیائی باشندوں کے مطابق وہ برطانیہ میں مطمئن زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں یہاں آگے بڑھنے کے زیادہ مواقع میسر ہیں۔

بی بی سی کی تحقیق کے لیے انٹرویو کیے گئے نصف جنوبی ایشیائی باشندوں اور دو تہائی گوروں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ تارکین وطن کے لیے برطانیہ میں سکونت پذیر ہونا آسان ہے۔

شناخت کی اہمیت

تین چوتھائی جنوبی ایشیائی باشندوں کا خیال تھا کہ برطانیہ میں رہنے کی وجہ سے ان کی ثقافت زائل ہوتی جا رہی ہے جبکہ تقریباً نصف کا کہنا تھا کہ گورے لوگ ان سے برطانوی شہریوں جیسا سلوک نہیں کرتے۔

کوکونٹ بننا ضروری نہیں
 ایشیائی برطانوی شہریوں کا کامیابی کے لیے کوکونٹ بننا ضروری نہیں ہے۔ شناخت کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے، میں انڈین برطانوی ہونے میں بڑا پر اعتماد محسوس کرتی ہوں
مینال سچدیو

بی بی سی نے یہ تحقیق اس وقت کرائی ہے جب پاکستان اور بھارت اس سال اپنی آزادی کی ساٹھویں سالگرہ منا رہے ہیں۔

سروے میں شامل کیے گئے جنوبی ایشیائی باشندوں میں سے بارہ فیصد کا کہنا تھا کہ وہ خود کو کوکونٹ سمجھتے ہیں۔

ایشیائی نوجوانوں کے ساتھ کام کرنے والے ایک ادارے ’کنیکٹ انڈیا‘ کی ڈائریکٹر مینال سچدیو کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ایشیائی برطانوی شہریوں کا کامیابی کے لیے کوکونٹ بننا ضروری نہیں ہے۔ ’شناخت کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے، میں انڈین برطانوی ہونے میں بڑا پر اعتماد محسوس کرتی ہوں۔‘

ماہانہ میگزین ’آئیکونز‘ کی ایڈیٹر رینا کومبو کہتی ہیں ’میں خود کو برطانوی محسوس کرتی ہوں، لیکن اتنا ہی ایشیائی بھی۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کچھ ایشیائی برطانوی کوکونٹ بننے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ معاشرے میں قبولیت چاہتے ہیں وگرنہ انہیں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔

برطانوی تارکین وطن
'ہر برطانوی کوصرف چار پینس فی ہفتے کا فائدہ'
ایڈز کے خلاف مہمبرطانیہ میں ایڈز
برطانیہ کی ایشیائی برادری اور ایڈز کا خطرہ
ایشیائی: لیڈز کامیئر
لیڈز کیلیے پہلے ایشیائی مسلمان میئر کا انتخاب
برطانوی پاسپورٹاب ٹیسٹ دینا ہوگا
برطانوی شہریت اب ٹیسٹ کے بعد
ایشیائی عورتوں کا دن گھر سے نکلو ذرا ۔۔۔
مشرقی لندن میں ایک دن ’ایشیائی عورتوں کا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد