برطانوی شہریت، غیرمعمولی تاخیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزارت داخلہ میں شہریت حاصل کرنے کے لیے سترہزار سے زائد درخواستوں کا سیلاب جمع ہوگیا ہے جن پر فیصلہ کرنے میں غیرمعمولی تاخیر کا سامنا ہے۔ یہ وہ درخواستیں ہیں جو پہلی نومبر سے قبل جمع کرائی گئی تھیں کیوں کہ اس دن سے شہریت حاصل کرنے کے لیے شہریت کا ایک ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہوگیا ہے۔ برطانوی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ ان درخواستوں پر جلد از جلد فیصلے کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن آئندہ مئی یا جون سے قبل یہ کام مکمل نہیں ہوسکتا ہے۔ جن لوگوں نے پہلی نومبر دوہزار پانچ کے بعد اپنی درخواستیں جمع کرائی ہیں انہیں پینتالیس منٹ کا ایک ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا جس میں انگریزی زبان، برطانوی معاشرہ اور حکومت سے متعلق سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے پہلی نومبر سے قبل درخواستیں جمع کرائی تھیں انہیں صرف اتنا ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کام چلاؤ انگریزی سمجھ بول لیتے ہیں۔ سن دوہزار چار میں برطانوی حکومت نے لگ بھگ ایک لاکھ اکتالیس ہزار افراد کو شہریت دی تھی۔ ان میں سے انتیس فیصد افراد کو شہریت اس لیے ملی کیوں کہ انہوں نے ایسے شخص سے شادی کی تھی جو برطانوی شہری ہے۔ | اسی بارے میں برطانوی شہریت کے لئے امتحان03 September, 2003 | صفحۂ اول پیدائش سوِٹزرلینڈ، شہریت کوئی نہیں27 September, 2004 | صفحۂ اول نئے پاسپورٹوں کا اجراء شروع25 October, 2004 | پاکستان بھارت دوہری شہریت دےگا06.01.2003 | صفحۂ اول فوج میں بھرتی، جلد شہریت08 November, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||