تارکین وطن: سرمائے کا اہم ذریعہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن ہر سال ایک سو بلین ڈالر اپنے گھروں کو بھجواتے ہیں۔ بین الاقوامی ادارے آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک کے لیے بیرونی ممالک سے آ نے والی یہ رقم مالی امداد، بیرونی سرمایہ کاری اور برآمدات سے بھی زیادہ ہے۔ دنیا کے نوے ترقی پذیر ممالک میں تارکین وطن سے حاصل ہونے والی رقوم میں سن دو ہزار دو کے مقابلے میں دو ہزار تین میں پچیس فی صد اضافہ ہوا۔ اگرچہ عالمی معیشت میں سستی کی وجہ سے بیرونی مالی امداد اور سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن تارکین وطن کی بھجوائی ہوئی رقوم میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ رقم بھجوانے پر آنے والے اخراجات اب بھی انتہائی زیادہ ہیں۔ مثال کے طور پر دو سو ڈالر بھجوانے پر پندرہ سے چھبیس ڈالر تک کا خرچ آتا ہے۔ بہت سے ممالک جیسے برطانیہ اب اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے کا خیال ہے کہ ان اخراجات کی وجہ سے بہت سے تارکین وطن رقم بھجوانے کے لیے غیر قانونی ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ بہت سے حکومتیں ان غیر رسمی ذرائع کی وجہ سے خوف زدہ رہتی ہیں اس لیے کہ ان کے ذریعے دہشت گرد گروہ لین دین کر سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||