BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 December, 2006, 10:12 GMT 15:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی ایشائی برادری میں ایڈز
ایڈز مہم
برطانیہ کے ایشیائی برادری میں ایڈز کی بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے
برطانیہ میں بھی ایڈز پھیل رہا ہے لیکن ڈاکٹروں کے مطابق تشویش ناک بات یہ ہے کہ ایشائی برادری میں ایڈز سے متاثرہ افراد کی صحیح تعداد کا اندازہ نہیں ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایڈز بہت تیزی سے نہیں پھیل رہا ہے۔ تاہم اس خدشہ کا اظہار کیا جارہا ہے کہ متاثرین کی ایک بڑی تعداد پوشیدہ ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق ایشائی برادری میں چونکہ یہ مرض بدنامی کا ایک ذریعہ تصور کیا جاتا ہے اس لیے لوگ جانچ نہیں کراتے اور اکثر اسے پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔

ملیکہ لیسسٹر میں رہتی ہیں۔ حال ہی میں ایڈز سے انکے شوہر کاانتقال ہوگيا ہے۔ وہ خود اس وقت ڈاکٹر کے پاس جانچ کے لیے گئیں جب بہت دیر ہوچکی تھی۔

انہوں نے اپنے بچوں کو تو بتا دیا کہ وہ ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں لیکن ان کے دوست اس سے ناواقف ہیں۔

’وہ سوچیں گے کہ میں کسی دوسرے کے پاس سوئی ہوں اوربس یہی بات میری زندگی کے لیے تباہ کن ہوگي، سامنے تو وہ کچھ نہیں کہیں گے لیکن سب میرا پوری طرح سے سماجی بائیکاٹ کردیں گے‘۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایشائی برادری میں ایڈز کے متعلق بیداری کی کمی ہے
اور فرسودہ خیالات انہیں کھل کر بولنے سے باز رکھتے ہیں اس لیے بہت سے متاثرین کی جانچ ہوپاتی ہے اور نہ ہی ان کے متعلق پتہ چل پاتا ہے۔

لندن میں ایڈز پر کام کرنے والے کار کن ریسٹورنٹ اور کیفیز میں مقامی لوگوں کے سے ساتھ مل کر بیداری مہم چلارہے ہیں تاکہ ایڈز کے متعلق بہت سی غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکے۔

ڈاکٹر دھر کی کوشش ہے کہ ایشائی برادری میں وہ ایڈز کی جانچ کریں

لندن میں ہسپتال کی ایک ڈاکٹر جیوتی دھر کہتی ہیں کہ وہ ایشائی برادری کے لوگوں میں ایڈز کی زیادہ سے زیادہ جانچ کرنا چاہتی ہیں۔

’ایشینز ہماری سروسز استعمال ہی نہیں کرتے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس کا کوئی خطرہ نہیں تو ہم کیوں جانچ کروائیں۔ بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ ایڈز صرف گوروں اور ہم جنس پرستوں میں ہوتا ہے‘۔

ڈاکٹر دھر کے مطابق برطانیہ میں جو تازہ سروے کیا گيا ہے اس سےایڈز متاثرین کی صحیح تعداد کا پتہ اس لیے نہیں چلا کہ اس میں ایشائی برادری میں ٹیسٹ برائے نام ہی ہوا ہے۔

ملیکہ کا کہنا ہے کہ چونکہ لوگ ایڈز کے بارے میں بات دوسرے کو بتاتے نہیں اسی لیے یہ پھیلتا جاتا ہے۔’لوگ دوسرے ملک جاکر شادی کرتے ہیں اور اپنی بیوی کوبرطانیہ لے آتے ہیں خود تو متاثر تھے ہی بیوی بچوں کو بھی کردیا۔،

خواتین اس بدنامی کے ڈر سے کہ انہیں بد کردار کہا جائےگا بتاتی نہیں تو یہ حالات تو ایڈز میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد