’بےشرم کلب‘ کے ایڈز زدہ ایشیائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یکم دسمبر کی رات مجھے ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر کینیڈا کے شہر ٹورانٹو کے وسطی علاقہ میں واقع بھارتی اور پاکستانی نژاد گے اور لزبین یعنی ہم جنس پرست لڑکے اور لڑکیوں کے مشہور نائٹ کلب’بے شرم‘ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں پہنچ کر اس بات کا انکشاف ہوا کہ کینیڈا میں بھارتی و پاکستانی تارکین وطن کی آبادی میں اضافے کے ساتھ ایڈز کے مریضوں کے تناسب میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔ کینیڈا میں پاکستانی اور بھارتی نژاد کینیڈین شہریوں کو ایڈز سے بچانے کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایسیپ یعنی الائنس فار ساؤتھ ایشین ایڈز پریوینشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں پاکستانی اور بھارتی نژاد کینیڈین شہریوں میں ایڈز کا مرض خطرناک حد تک بڑھ گیا ھے۔ ان مریضوں کی ایک بڑی تعداد کینیڈا کے شہر ٹورانٹو ، مسی ساگا ،ھملٹن ، اوک ول اور برامپٹن میں آباد ھے۔ جب میں ٹورانٹو سے شروع ہونے والی دنیا کی لمبی ترین گلی’ یانگ سٹریٹ ‘ کے مشرق میں واقع ہم جنس پرستوں کی آبادی والے علاقے چرچ سٹریٹ کے قریب پہنچا تو’ بے شرم ‘ نامی دیسی نائٹ کلب کے باہر سخت سردی میں بھی بھارتی و پاکستانی نژاد کینیڈین نوجوان لڑکے اور لڑکیاں لمبی قطاروں میں کھڑے کلب کے اندر جانے کا انتظار کر رہے تھے۔ ان میں ہم جنس پرست دیسی لڑکیوں اور لڑکوں کی بڑی تعداد دوران انتظار بوس و کنار میں مشغول تھی۔ سکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ ہر مہینے کے پہلے جمعہ کی شب یہ قطاریں شام چھ بجے سے لگنی شروع ہو جاتی ہیں اور رات کے ایک بجے تک کلب میں داخلے کے لیے ساؤتھ ایشین نوجوان ہم جنس پرست شدت سے انتظار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ نابالغ ساؤتھ ایشین ہم جنس پرست بھی جعلی شناختی کارڈ استعمال کرکے کلب کے اندر داخل ہونے کی کوشش میں کئی دفعہ پکڑے جاچکے ہیں۔ جب میں کلب کے اندر داخل ہوا تو بالی وڈ کے گانوں کی بلند آواز اورتاریکی میں ایک لمحہ کےلیے کچھ سمجھ نہ آیا۔ میرے ساتھ بی بی سی مقدونیہ سروس کی ایک رپورٹر گوردانہ بھی موجود تھیں۔ گوردانہ کو بالی وڈ میوزک سمجھ نہیں آرہا تھا اور مجھے میوزک کے شور کی وجہ سے اس کی کوئی بات سنائی نہیں دے رہی تھی۔ بے شرم نائٹ کلب کے اندر داخل ہونے کے بعد ایک کونے میں خاموشی سے کھڑے عمار نامی ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ اس نوجوان نے اپنے ہاتھ میں ایک سجا ہوا گھڑا اٹھا رکھا تھا۔
گوردانہ نے ساری عمر یورپ کے کلبوں میں گزاری تھی مگر اس سے پہلےگھڑا کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں نے اس کے استفسار پر اس نوجوان سے گھڑا پکڑ کر کھڑے ہونےکی وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ وہ ایڈز کا مریض ہے اور اس گھڑے میں کونڈوم موجود ہیں۔ وہ نوجوان یہ کونڈوم نوجوان ہم جنس پرست لڑکے اور لڑکیوں کو مفت تقسیم کرتا ہے تاکہ وہ ایڈز جیسے خطرناک مرض کا شکار نہ ہو سکیں۔ کلب میں دلیر مہندی کے گانوں کی وجہ سے ماحول پرشور تھا مگر میرے تجسس نےمجھے عمار سے کئی سوال کرنے پر مجبور کیا۔ عمار نے بتایا کہ کچھ سال قبل وہ کینیڈا پڑھنے کے لۓ آیا تھا مگر جب یہاں امیگریشن کے محکمہ نے اس کا میڈیکل چیک اپ کیا تو اسے معلوم ہوا کہ ہ ایڈز جیسے خطرناک مرض کا شکار ہو چکا ہے۔ عمار نے بڑی سنجیدگی سے میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب اسے یہ خبر ملی تو اس کو صرف ایک چیز نظر آئی اور وہ تھی موت۔ اس کے بعد اس کی دنیا تاریک ہوگئی اور وہ نفسیاتی طور پر بہت سے مسائل میں گھر گیا ۔ اس نے کتاب کی بجاۓ شراب کو اپنا ساتھی بنا لیا۔ ایک دن اس کا رابطہ کینیڈا میں پاکستانی اور بھارتی نژاد کینیڈین شہریوں کو ایڈز جیسے مرض سے بچانے کے لۓ کام کرنے والی تنظیم ایسیپ یعنی الائنس فار ساؤتھ ایشین ایڈز پریوینشن سے ہوا۔ اس کے بعد سے اس نے سینکڑوں نوجوانوں کو اس مرض کا شکار ہونے سے بچانے کے لۓ رضاکارانہ طور پر کام کرنے کا عزم کیا۔ عمار نے بتایا کہ کینیڈا آنے سے پہلے اس نے بھارت کے شہر ممبئی میں کبھی بھی جنسی عمل کے دوران کونڈوم کا استعمال نہ کیا تھا اور اسے یقین ہے کہ اسے یہ مرض ممبئی کی کسی جسم فروش لڑکی سے لگا ہے۔ عمار اب کینیڈا میں ہم جنس پرستوں اور دیگر جنسی تنظیمموں کے زیر اہتمام تعلیمی ورکشاپس میں حصہ لیتا ہے اور نوجوانوں کو اس موذی مرض کے بارے میں اپنے تجربات کی روشنی میں احتیاط برتنے کی تلقین کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی لوگ کونڈوم لینے سے انکار کردیتے ہیں اور کوئی فرق نہیں پڑتا کہہ کرایک طنزیہ مسکراہٹ ہونٹوں میں دبا کر نکل جاتے ہیں۔ عمار کا کہنا ہے کہ وہ ایک آرکیٹیکٹ ہے۔ اسے نصرت فتح علی خان کا میوزک بہت پسند ہے۔ اپنی چھٹیاں میکسیکو میں گزارنا اس کا خواب ہے۔ اسے مسالہ ڈوسہ پسند ہے اگر وہ اپنی ہر پسند بتا سکتا ہے تویہ کیوں نہیں بتا سکتا کہ اسے ایڈز ہے۔ ایڈز کیے عالمی دن کے حوالے سے کلب میں لگے پروجیکٹر کی مدد سے ایک پیغام بھی دیوار پر دکھایا جا رہا تھا مگر شراب، میوزک اور سگریٹ کے دھوئیں میں یہ پیغام اوجھل ہو کر رہ گیا تھا۔ کینیڈا میں پاکستانی اور بھارتی نژاد کینیڈین شہریوں کو ایڈز جیسے مرض سے بچانے کے لۓ کام کرنے والی تنظیم ایسیپ یعنی الائنس فار ساؤتھ ایشین ایڈز پریوینشن کی میڈیا کوارڈینیٹر فردوس علی نامی خاتون نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ساؤتھ ایشین ممالک خصوصا پاکستان اور بھارت سے آنے والے تارکین وطن کو ایڈز جیسے موذی مرض سے بچانے کے لۓایک بھرپور مہم شروع کر رکھی ہے۔ ایسیپ نے کینیڈا کے اخبارات ریڈیو اور ٹی وی پر اس مرض سے آگاہی کے لۓ خصوصی مہم چلائی ہے۔ ان اشتہارات کی مدد سے نائٹ کلبوں میں نوجوان نسل کو اس کے بارے میں آگاہ کیا جاتاہے۔ فردوس نے کہا کہ کینیڈا میں مقیم ساؤتھ ایشین لوگ کہتے ہیں کہ ایڈز ان کا مسئلہ نہیں ہے مگر یہ مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے اور ہمارے لوگ اس بات کا خیال نہیں کر رہے کہ ان کے نہ ماننے سے ایڈز کے بڑھتے ہوئے مرض پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ گزشتہ دو سال کے عرصے میں کینیڈا میں مقیم پاکستانی اور بھارتی نژاد شہریوں میں ایڈز کے مریضوں میں پینسٹھ فیصد تک اضافہ ہوا ہے اور اس اضافے کا تناسب اس سے قبل تیس فیصدسالانہ تھا۔ فردوس نے خواتین کے حوالے سے خصوصی طور پر بتایا کہ خواتین اس مرض کا شکار تیزی سے ہو رہی ہیں اور ان کا تناسب دس فیصد بڑھ گیا ہے۔ ان خواتین کی عمریں پچیس سال سے چالیس سال تک کی ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ان شادی شدہ خواتین کے خاوند بغیر کونڈوم کے دوسری عورتوں سے جنسی ملاپ کرتے ہیں اور پھر اپنی بیویوں کو یہ وائرس منتقل کر دیتے ہیں۔ اس وقت کینیڈا میں اس مرض کا شکار ہونے والے ساؤتھ ایشین گے یعنی ہم جنس پرست مردوں کی تعداد اور خاندانوں سے مل کر ڈبل زندگی گزارنے والوں کی بہت بڑی تعداد شامل ہے۔ جس کے نتیجے میں بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ غیر محفوظ سیکس کرنے والے بھی تیزی سے ایچ آئی وی پوزیٹو ہو رہے ہیں۔ اس تنظیم کی بنیاد رکھنے والےساؤتھ ایشین خاوند اور اسکی بیوی انیس سو نواسی میں ایڈز کے مرض کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گۓ تھے۔اس کے بعد’ خوش ‘ نامی گروپ نے اس تنظیم کو فعال کیا تاکہ کینیڈا میں پاکستانی اور بھارتی تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد کو اس مرض سے بچایا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرض سے بچاؤ کا سب سے آسان طریقہ احتیاط ہے۔ فردوس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کے کچھ اخبارات اور علماء کی ایک بڑی تعداد اس مہم میں ہمارا ساتھ نہیں دے رہی۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جنھیں بھارت یا پاکستان سے ایڈز ہوچکی تھی مگر جب انہوں نے اپنا سیاحتی ویزے کی معیاد بڑھانے کے لۓ درخواست دی تو میڈیکل چیک اپ کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ انہیں ایڈز کا مرض لاحق ہے۔ بے شرم نامی اس دیسی نائٹ کلب میں فردوس نے میری ملاقات محمد نامی ایک ایڈز کے مریض سے بھی کرائی۔ لاغر جسم کے مالک محمدنے بئیر کی بوتل ہوا میں لہراتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کا افسوس ہے کہ اس کلب میں موجود ہم جنس پرست جوڑوں کی ایک بڑی تعداد کو یہ علم نہیں کہ وہ اس جان لیوا مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ نوجوان جوڑے کینیڈا جیسے ملک میں رہنے کے باوجود احتیاطی تدابیر استعمال نہیں کرتے اور نہ ہی یہ اپنا طبی معائنہ کرواتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اس کلب میں ایسے پاکستانی اور بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد آتی ہے جو ہم جنس پرست ہیں اور ان کے خاندان والوں کو اس کا علم نہیں ہے۔ اور خاندانی رکھ رکھاؤ کےلیے انہوں نے شادیاں بھی کر رکھی ہیں ۔ جس کی وجہ سے ان کی ہم جنسی کی گمنام زندگی انہیں ایڈز جیسے وائرس کا شکار بنارہی ہے اور ان کی وجہ سے ان کی بیویوں کو اس وائرس سے ایڈزز کا مرض ملا ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ ایک انڈین ہم جنس پرست انتھونی نے بتایا کہ اسے ایڈز کا مرض ہم جنسی کی وجہ سے ہوا ہے اور اب وہ ہر ہم جنس مر داور عورت کو ایک ہی تلقین کرتے ہیں کہ وہ اس مرض سے بچیں۔ انتھونی نے بتایا کہ کینیڈا میں خاندانی مسائل اور نفسیاتی دباؤ کا شکار کئی نوجوان ہم جنس پرست غیر محفوظ سیکس کے علاوہ نشے کی لت میں بھی پڑ چکے ہیں۔ جب ہم رات کے آخری پہر اس کلب سے باہر نکلنے لگے تو دروازے کے قریب باہر کی طرف جاتے ہوئے ایک سردار جی نےمیری ساتھی رپورٹر گوردانہ کے ہاتھ میں کیمرا دیکھ کر مجھے پنجابی میں درخواست کرتے ہوئے کہا کہ یاراس کو کہو کہ ’ شوٹ ‘ نہ کرے ورنہ ٹی وی پر میری تصویر دیکھ کر میری بیوی مجھے شوٹ کردے گی۔ اس کے بعد سردار جی اپنے ’بیلی‘ کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر باہر نکل گۓ ۔ میں اور گوردانہ کلب سے باہر آئے تومنفی درجہ حرارت کے باوجود دیسی نوجوان ابھی بھی لائن میں کھڑے اندر جانے کی امید لگائے کھڑے تھے۔ | اسی بارے میں بہار: ’پولیس اہلکار ایڈز میں مبتلا‘25 October, 2006 | انڈیا ایچ آئی وی کی جعلی کٹیں30 October, 2006 | انڈیا ایشیا میں 8.6 ملین ایڈز کے مریض21 November, 2006 | آس پاس ایڈز پر کلنٹن کی پہل 01 December, 2006 | انڈیا کشمیر، فوج اور ایڈز کا خطرہ01 December, 2006 | انڈیا ’تمہیں شاید معلوم نہیں کہ مجھے ایڈز ہے‘01 December, 2006 | قلم اور کالم ایڈز اب بھارت کے دیہاتوں میں بھی01 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||