ظاہر شاہ سپردِ خاک کر دیے گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے آخری بادشاہ شاہ محمد ظاہر شاہ کو ان کے محل میں آخری رسومات کے بعد سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ وہ پیر کو بانوے سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہیں کابل کی ایک پہاڑی پر جہاں ان کے والد اور ان کی اہلیہ بھی دفن ہیں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی تدفین میں دنیا بھر سے معززین نے شرکت کی۔ افغانستان حکومت نے ان کی تدفین میں پورے احترام کو ملحوظ رکھا۔ وہ اپنے ایک کزن سردار داؤد کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہونے کر انتیس سال کی جلاوطنی کے بعد سنہ دو ہزار دو میں واپس لوٹے تھے اور افغانستان میں امن اور مفاہمت علامت تصور کیے جاتے تھے۔ وہ 1914 میں کابل میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے فرانس سے تعلیم حاصل کی اور 1933 میں اپنے والد کے قتل کے بعد محض انیس سال کی عمر میں تخت نشین ہوئے۔ جنگ عظیم دوئم میں انہوں نے افغانستان کو اس سے الگ رکھا تاہم اس جنگ کے بعد انہوں نے ملک میں جدید اصلاحات کی ضرورت محسوس کی اور ملک کو آئین سیاسی جماعتوں اور انتخابات سے متعارف کرایا۔ سن دو ہزار ایک میں طالبان کی حکومت گرنے کے بعد جب ایک مرتبہ پھر متحدہ افغانستان کے لیے امید کی کرنیں پھوٹنا شروع ہوئیں تھیں تو کئی لوگ نہ صرف ظاہر شاہ کی واپسی کے منتظر ہوگئے بلکہ ان کی بادشاہت کی بحالی کی بھی باتیں ہونے لگیں تھیں۔ اکتوبر انیس سو چودہ کو پیدا ہونے والے ظاہر شاہ، قتل کیے جانے والے افغان بادشاہ نادر شاہ کے بچ جانے والے واحد فرزند تھے جن کی تعلیم کابل اور فرانس میں ہوئی۔ آٹھ نومبر انیس سو تیتیس میں اپنے والد کے قتل کے چند گھنٹے بعد ہی ظاہر شاہ کو بادشاہ بنا دیا گیا اور انہوں نے متوکل اللہ پیرواِ دین ِ متین ِ اسلام کا ٹائیٹل اپنالیا۔ انیس چھیالس تک ظاہر شاہ کی بادشاہت میں ملک کا انتظام ان کے انکل محمد ہاشم اور شاہ محمود غازی نے چلایا۔ ان کی جلا وطنی کے دوران افغانستان میں روسی فوجی مداخلت بھی ہوئی جس نے طالبان کے دور کو جنم دیا اور اس کے بعد ملک بد سے بد تر حالات کی طرف بڑھتا گیا۔ انیس سو اکیانوے میں ظاہر شاہ پر روم میں ان کے گھر پر ایک قاتلانہ حملہ بھی ہوا جس میں وہ بچ گئے لیکن اس کے بعد اگلے دس برس تک وہ پبلک میں زیادہ نظر نہیں آئے۔ ظاہر شاہ کا افغانستان ترقی، امن اور سیاسی اصلاحات کے لیے مشہور تھا اور وہ ایک مقبول اور روشن خیال بادشاہ کے طور پر یاد کیے جائیں گے۔ | اسی بارے میں افغانستان: ظاہر شاہ انتقال کر گئے23 July, 2007 | آس پاس ’افغانستان: مغوی جرمن شہری قتل‘21 July, 2007 | آس پاس افغانستان: جنوبی کوریائی اغوا20 July, 2007 | آس پاس ’طالبان جانوں کی قدر نہیں کرتے‘11 July, 2007 | آس پاس افغانستان: 70 سے زائد ہلاکتیں07 July, 2007 | آس پاس ’مرنے والے شاید شہری ہی تھے‘01 July, 2007 | آس پاس افغانستان: اجتماعی قبر کا انکشاف06 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||