سرچ انجن یاہو کے سربراہ مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ سرچ کمپنی ’یاہو‘ کے چیف ایگزیکٹو ٹیری سیمل نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ ان کی جگہ ان کے ساتھی جیری یانگ لیں گے۔ ٹیری سیمل اس عہدے پر 2001 سے کام کر رہے تھے مگر کارروباری اہداف کے حصول میں ناکامی اور آن لائن مارکیٹ میں حریف کمپنی گوگل کے بڑھتے غلبہ کی وجہ سے وہ کافی عرصے سے دباؤ کا شکار تھے۔ 2007 کے ابتدائی تین ماہ کے دوران کمپنی کے منافع میں سولہ فیصد کمی واقع ہوئی۔ کمپنی کے نئے سربراہ مسٹر یانگ نے حریف کمپنیوں کے مقابلے میں ’یاہو‘ کو ایک سرچ انجن کے طور پر کھڑا کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔1995 کے مقابلے میں اس وقت ’یاہو‘ کے دنیا بھر میں 500 ملین سے زائد صارف ہیں۔ مستعفی ہونے والے سربراہ ٹیری سیمل کمپنی کے نان ایگزیکٹو چیئرمین کا عہدہ سنبھالیں گے مگر وہ کمپنی کے معمول کے مطابق ہونے والے کارروباری عمل میں شریک نہیں ہوں گے۔ یاہو گزشتہ کئی سال سے مارکیٹ پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کی کوششوں میں ہے مگر گوگل کے مقابلے میں آن لائن مارکیٹ میں یاہو کے شیئرز میں کمی ہو رہی ہے۔ دوسری طرف ناقص ٹیکنالوجی کے استعمال اور جدت سے عاری ہونے کی وجہ سے بھی یاہو پر تنقید کی جارہی ہے۔ امریکہ میں چلنے والے تمام آن لائن سرچ انجنوں کے مقابلے میں یاہو کے پاس تقریباً 26 فیصد شیئرز ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں اس کی حریف کمپنی گوگل 49 فیصد شیئرز کے ساتھ سرِفہرست ہے۔ اپنے استعفی کی بابت مسٹر سیمل کا کہنا تھا کہ کمپنی میں کام کرنے والے افراد میں سے کوئی بھی کمپنی کی فنانشل پرفارمنس سے خوش نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت ہے کہ جب نئی قیادت ان کی جگہ لے، جو مختلف درپیش مسئل سے نبٹنے کا ہنر اور ان پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہو اور جو کمپنی کو صحیح معنوں میں اوپر لے کر جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جو کیا وہ ٹھیک ہے اور ایسا کرنے کا یہی مناسب وقت بھی ہے۔ یاہو سرچ انجن کی بنیاد مسٹر یانگ نے 1995 میں اپنے ساتھی ڈیوڈ فلو کے ساتھ رکھی اور اس کے ایک سال بعد ان ہی کی کوششوں کی وجہ سے کمپنی کو سٹاک مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے کا موقع ملا۔ اس کے بعد سے انہوں نے دور رس اور کامیاب کاروباری حمکت عملی وضع کرنے، ٹیکنالوجی کی ترقی اور بیرونی دنیا میں ویب سائٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ یاہو مائیکرو سافٹ کے اشتراک سے آن لائن سرچ مارکیٹ میں گوگل کے تیزی سے بڑھتے اثر پر قابو پانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ گزشتہ سال یاہو اور مائیکرو سافٹ کے درمیان ضم ہونے سے متعلق غیر رسمی بات چیت شروع ہونے اور اس سال کے آغاز میں دونوں جانب سے ممکنہ تعاون بڑھانے کے بارے میں بات چیت کے آغاز سے متعلق اطلاعات تھیں۔ دونوں کمپنیوں نے ان اطلاعات کو محض قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے ان کی تردید کی مگر اس قسم کی قیاس آرائیوں کی بدولت مارکیٹ میں یاہو کے شیئرز کی قیمت بڑھی۔ مسٹر سیمل نے ایک ایسے وقت میں کمپنی کی باگ دوڑ سنبھالی جب ڈاٹ کام کے کارربار میں تیزی کے رحجان کے بعد یک دم سے مندی چھا جانے سے ’یاہو‘ کے زوال کی باتیں ہو رہیں تھیں۔ انہوں نے اپنی کامیاب حکمت عملی سے کمپنی کو دوبارہ سے کھڑا کیا مگر مارکیٹ میں گوگل کے تیزی سے بڑھتے عمل دخل اور یاہو کا اس کے مقابلے میں اتنی کامیابی سے جواب نہ دینے پر کمپنی کے مستقبل کے بارے میں شکوک وشہبات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ مسٹر سیمل کے مستعفی ہونے کی خبر سے یاہو کے شیئرز کی قیمت میں تقریباً تین فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ |
اسی بارے میں یاہوایک بار پھر الزام کی زد میں09 February, 2006 | آس پاس انٹرنیٹ اشتہار بازی میں اضافہ19 January, 2005 | نیٹ سائنس بی بی سی اور یاہُو کا ’یوم ہیکنگ‘16 June, 2007 | نیٹ سائنس یاہو اور ہاٹ میل کا مقابلہ 01 April, 2004 | نیٹ سائنس یاہو: بہتر سرچ ٹُول کا وعدہ27 April, 2005 | نیٹ سائنس یاہو کی چین میں بڑی سرمایہ کاری12 August, 2005 | نیٹ سائنس یاہو: چین کیلیے ’مخبری‘ کا الزام07 September, 2005 | نیٹ سائنس یاہو اور سیمنٹک کی مشترکہ سروس26 July, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||