یاہوایک بار پھر الزام کی زد میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ کمپنی یاہو پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے چین کی حکومت کو ایسی معلومات فراہم کیں ہیں جس کی بنیاد پرانٹرنیٹ پر لکھنے والے ایک اور صحافی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے ایک ادارے ’ رپورٹرز وتھاؤٹ بارڈرز‘ نے دعوی کیا ہے کہ یاہو نے اس سے قبل دوہزار تین میں آن لائن پر لکھنے والے ایک صحافی کو آٹھ سال قید کی سزا دی گئی تھی۔ گزشتہ سال بھی یاہو کو بیجنگ کو ایسی معلومات فراہم کرنے کا مرتکب ٹھرایا گیا تھا کہ جس کی وجہ سے چین کے صوبہ ہونان میں بزنس نیوز سے وابستہ سینتیس سالہ شی تاؤ کو گرفتار کر کے دس سال کی سزا سنائی گئی۔ شی تاؤ کو کمپوٹر سے خفیہ معلومات افشا کرنے کے جرم میں سزا دی گئی۔ صحفیوں کی اس تنظیم نے یاہو سے کہا ہے کہ انٹر نیٹ پر لکھنے والے ان تمام صحافیوں کے نام بتائے کہ جن کی شاخت کے بارے میں وہ چین کے حکام کو بتا چکا ہے۔ یاہو کی ترجمان کاکہنا ہے کہ کمپنی نے قانون سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کیا۔ چین میں حکومت نے انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے سخت قوانین نافذ کیے ہیں۔ چار بڑی امریکی کمپنیوں مائیکرو سافٹ، گوگل، یاہو اور سسکو پر چین کے سامنے انٹرنیٹ سینسر کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ گوگل کو بھی گزشتہ ماہ سخت تنقید کا سامنا رہا کیونکہ اس نے بیجنگ کی شرائط مان کر اپنی کچھ سائٹس بلاک کر دیں۔ | اسی بارے میں یاہو اور ہاٹ میل کا مقابلہ 01 April, 2004 | نیٹ سائنس یاہواورہاٹ میل: مقابلے کامنصوبہ02 April, 2004 | نیٹ سائنس یاہو دس سال کا01 March, 2005 | نیٹ سائنس یاہو: بہتر سرچ ٹُول کا وعدہ27 April, 2005 | نیٹ سائنس یاہو کی چین میں بڑی سرمایہ کاری12 August, 2005 | نیٹ سائنس یاہو: چین کیلیے ’مخبری‘ کا الزام07 September, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||