لبنان: دونوں اطراف سے لڑائی جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنانی فوج اور فلسطینی مہاجر کیمپ میں موجود اسلامی شدت پسندوں کے درمیان لڑائی بدستور جاری ہے۔ فوج نے کیمپ کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور اپنے مورچوں سے اس پر گولہ باری کر رہے ہیں۔ ان کا نشانہ شدت پسند تنظیم فتح الاسلام کے عسکریت پسند ہیں جو چھوٹے اسلحے اور مشین گنوں سے جوابی فائرنگ کر رہے ہیں۔ لڑائی اتوار سے جاری ہے اور اس میں اب تک تقریباً اسی افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ نہر البارید کیمپ میں جاری لڑائی سے ایک طرف تو انسانی بحران پیدا ہوگیاہے اور اس کے ساتھ ہی فلسطین اور لبنان کے تعلقات میں بھی مزید کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ کیمپ میں چالیس ہزار کے قریب عام شہری پھنسے ہوئے ہیں اور وہاں حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک قافلے نے منگل کو پانی اور جنریٹروں کے ساتھ کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر انہیں واپس لوٹنا پڑا۔
کیمپ کے اندر موجود ڈاکٹر فوری جنگ بندی کی اپیل کر رہے ہیں کیونکہ سڑکوں پر لاشیں اور زخمی لوگ پڑے ہیں۔ کیمپ کے اندر موجود ایک شخص جمال ابو ہاشم نے بتایا کہ ہر طرف گولہ باری ہو رہی ہے۔ کوئی جگہ محفوظ نہیں۔ہمیں کچھ نہیں پتہ کہ کیا ہورہا ہے۔ نہ پینے کا پانی ہے، اور نہ بجلی۔ فتح الاسلام کے ایک ترجمان ابو صالم کا الزام ہے کہ لبنانی فوج نے کل شام ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صرف پانچ ہی منٹ میں دوبارہ گولہ باری شروع کر دی۔ لبنان کے وزیر تجارت سمی حداد کہتے ہیں کہ ان کی حکومت کے سامنے عسکریت پسندوں کی اشتعیال انگیزی کا جواب دینے کےعلاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا: ’یہ لوگ جمہوری طور پر متنخب حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک ایسی حکومت جو آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق میں یقین رکھتی ہے۔ ہمیں بین الاقوامی دہشت گردی کا سامنا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ کچھ عرصہ جاری رہے گا۔ ہمیں کیمپ کے اندر موجود عام شہریوں کی بہت فکر ہے۔ کئی جنگ بندیاں ہوئی ہیں لیکن دہشت گرد ان پر عمل نہیں کرتے‘۔ صدر بش نے پیر کی شام لبنان میں جاری لڑائی کے لیے بیرونی طاقتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا لیکن شام کا براہ راست نام لینے سے گریز کیا تھا۔
اقوام متحدہ میں شام کے سفیر بشر جعفری نے کہا ہےکہ ان کی حکومت کے خیال میں مشرق وسطیٰ اسی طرح کی ایک اور جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے جیسی کہ گزشتہ برس حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ہوئی تھی۔ شام کے سفیر کا کہنا تھا: ’اسرائیل جولان کی پہاڑیوں میں اب تک کی اپنی سب سے بڑی فوجی مشقیں کر رہا ہے۔ اس سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ اسرائیل خطے میں لڑائی پھیلانے کی خواہش رکھتا ہے‘۔ کیمپ میں حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں اور جنوبی لبنان میں فلسطینی فلاحی تنظیم کے ڈائریکٹر قاصم ساد کہتے ہیں کہ کیمپ میں موجود عام لوگ عسکریت پسندوں کی حمایت نہیں کرتے، لیکن پھر بھی انہی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ |
اسی بارے میں امریکہ: لبنان جنگ بندی میں رکاوٹ22 March, 2007 | آس پاس جھڑپوں میں 50 سے زیادہ ہلاک21 May, 2007 | آس پاس لبنان پرحملے کا منصوبہ تھا: اولمرت09 March, 2007 | آس پاس یادگاری ریلی: لبنان میں کشیدگی14 February, 2007 | آس پاس لبنان میں افراتفری کے بعد ہڑتال ختم24 January, 2007 | آس پاس لبنان کو مزید امداد دینگے: امریکہ21 August, 2006 | صفحۂ اول اسرائیل، لبنان سرحدی جھڑپ08 February, 2007 | آس پاس ’لبنانی حکومت مستعفی ہو جائے‘01 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||