یادگاری ریلی: لبنان میں کشیدگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے سابق وزیرِ اعظم رفیق حریری کی ہلاکت کی دوسری برسی پر بدھ کو بیروت کے وسط میں شہدا چوک پر دسیوں ہزار افراد جمع ہوئے ہیں۔ اس ریلی کی وجہ سے پہلے ہی ملک میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حکومت کے طرف دار جو شام پر اُس کار بم حملے کا الزام عائد کرتے ہیں جس میں رفیق حریری ہلاک ہوئے تھے، سابق وزیرِ اعظم کی برسی پر وسطی بیروت میں ان کی قبر پر جمع ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔تاہم اپوزیشن جس میں حزب اللہ کے حمایتی شامل ہیں، مزید احتجاجی مظاہرے کرنا چاہتے ہیں۔ منگل کو لبنان میں دو بسوں پر بم حملوں میں تین افراد مارے گئے تھے۔ لبنان کے موجودہ وزیرِ اعظم فواد سینورا کی مخلوط حکومت نے ان بس حملوں کا الزام شام پر لگایا ہے اور کہا ہے کہ وہ ’ان قبیح جرائم کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے۔‘ حکومت کے طرفداروں کا کہنا ہے کہ یہ حملے بدھ کو سابق وزیرِ اعظم کی یاد میں ریلی میں شریک ہونے والے لوگوں کو ڈرانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ منتظمین کہتے ہیں کہ یادگاری ریلی پھر منعقد کی جائے گی۔
وزیرِ اعظم کا کہنا ہے: ’ہم مجرموں کو تلاش کریں گے اور ان کا مقابلہ کریں گے۔‘ صدر ایمائل لہود نے بھی جو شام کے پکے حمایتی ہیں، ان حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حملے سمجھوتے کے لیے نقصان دہ ہیں۔ان کا کہنا تھا: ’جب بھی لبنان کسی معاہدے کے قریب پہنچتا ہے تو اس کے دشمن کوئی نہ کوئی جرم کر دیتے ہیں‘۔ لبنان میں سیاسی اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں کافی شدت پائی جا رہی ہے اور جنوری میں سرکار کے حامیوں اور مخالفوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔ بحران کا آغاز گزشتہ سال اس وقت ہوا تھا جب کابینہ نے رفیق حریری کی ہلاکت کی اقوامِ متحدہ کے ٹرائبیونل کے ذریعے تحقیقات کی توثیق کر دی تھی جس پر شام نواز چھ وزراء نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ شام نے رفیق حریری کی موت میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے لیکن لبنان میں شام کے خلاف اتنا غصہ بڑھ گیا تھا کہ دمشق میں حکومت نے انتیس سال سے وہاں موجود افواج کو واپس بلانے کا اعلان کر دیا تھا۔
اقوامِ متحدہ نے اعلیٰ سطح پر جو تحقیقات کی ہیں ان سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ رفیق حریری کی ہلاکت میں شام کے سینئر اہلکار اور ان کے لبنانی حلیف شامل تھے۔ گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ نے ہلاکتوں میں ملوث افراد کو سزائیں دلانے کے لیے ایک بین الاقوامی ٹرائبیونل بنانے کا معاہدہ کیا ہے۔ تاہم یہ معاہدہ عمل میں اس وقت آ سکتا ہے جب لبنان کی پارلیمان اس کی توثیق کرے۔ شام کا حمایتی حزب اللہ لبنان پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ’اسرائیل کی شکست‘ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور لبنان میں حکومت میں طاقتور پارٹنر بنناچاہتا ہے۔ | اسی بارے میں لبنان: بیار الجمیل کے قتل پر سوگ22 November, 2006 | آس پاس لبنان: ٹربیونل کی تجویز مسترد10 December, 2006 | آس پاس لبنان میں افراتفری کے بعد ہڑتال ختم24 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||