جھڑپوں میں 50 سے زیادہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنانی میں عسکریت پسند اسلامی گروپ ’فتح الاسلام‘ اور فوج کے درمیان لڑائی میں اب ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچاس سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ لبنان کی طویل مدت تک چلنے والی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے یہاں سب سے پرتشدد جھڑپیں ہیں۔ اتوار کو ہونے والی ایک جھڑپ میں تئیس فوجی ہلاک کر دیے تھے۔ اس شدت پسندگروپ کا مرکز ملک کے شمالی علاقے میں طرابلس نامی قصبے کے قریب واقع فلسطینی مہاجرین کا ایک کیمپ ہے۔ اتوار کو ہلاک ہونے والوں میں فوج کے کم سے کم تئیس اہلکار اورشدت پسندوں کے سترہ افراد شامل ہیں۔ اتوار کو فوج نے کیمپ کے اندر ٹینکوں سے گولے پھینکے اور فائرنگ بھی کی۔ سترہ برس قبل ختم ہونے والی خانہ جنگی کے بعد یہ لبنان کے اندر سب سے بڑی فوجی کارروائی ہے۔ اتوار کو یہ لڑائی کیمپ سے باہر طرابلس کے قصبے تک پھیل گئی اور اس میں تئیس فوجی، سترہ عسکریت پسند اور کئی عام شہری ہلاک ہو گئے۔ حکومت کے اس عہد کو دھراتے ہوئے کہ فوج شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے گی، ملک کے وزیر اطلاعات غازی العریدی نے کہا کہ مارے جانے والے لوگوں میں زیادہ تر تعداد ان کی ہے جو بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا ’ہمیں جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن شدت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں اور ہم یہ کارروائی جاری رکھیں گے۔‘ شدت پسند گروپ ’فتحِ الاسلام‘ کا مرکز فلسطینیوں کا ایک پنا گزین کیمپ ہے جس کی آبادی تقریباً تیس ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ اتوار کی لڑائی کا آغاز طرابلس کے ایک علاقے میں صبح اس وقت ہوا جب سیکورٹی اہلکاروں نے ایک بینک ڈکیتی میں ملوث مبینہ ملزمان کو پکڑنے کی غرض سے ایک عمارت پر چھاپہ مارا۔ چھاپے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے فتح اسلام کے کارکنوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی اور جلد ہی شہر کے قریب نہرالبارد کے مہاجر کیمپ کے گیٹ پر بنی فوجی چوکی پر حملہ کر دیا۔ اس واقعے کے کئی گھنٹے بعد لبنانی فوج کے ایک بڑے دستے نے فتح الاسلام پر جوابی حملہ کیا جس دوران انہوں نے کیمپ پر گولے برسائے اور طرابلس شہر کے مضافات میں ایک عمارت پر بھی کارروائی کی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کارروائیوں میں دو شہری ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے۔ فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ستائیس فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں۔ نہار البارد کا کیمپ اس وقت سے سکیورٹی حکام کی نظر میں تھا جب فروری میں بیروت کے عیسائی علاقے میں دو بس دھماکے ہوئے تھے جن کا ذمہ دار فتح الاسلام کو ٹھہرایا گیا تھا۔ فتح الاسلام کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ لڑائی لبنانی فوج کی طرف سے ان پر ایک بلاجواز حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ مسئلہ طرابلس میں ہمارے بھائیوں کی بلاجواز گرفتاریوں سے ہوا۔ ہم نے لبنان میں ہمیشہ سُنّیوں کا دفاع کیا ہے۔‘ ایک دوسرے واقعہ میں دارالحکومت بیروت کے عیسائی اکثریت کے علاقے میں ایک شاپنگ سینٹر میں دھماکے میں ایک عورت ہلاک ہوئی ہے۔ لبنان میں تین لاکھ پچاس ہزار سے زائد فلسطینی آباد ہیں جن میں سے زیادہ تر اس وقت بھ گھر ہوئے تھے جب انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اڑتیس برس پہلے ہونے والے ایک معاہدے کے تحت لبنانی فوج کو نہرالبارد کے کیمپ میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ فتح الاسلام فلسطینیوں کا ایک الگ ہو جانے والا گروپ ہے جس پر الزام ہے کہ اس کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ لبنانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ گروپ کے رابطے شام کی خفیہ ادارے سے بھی ہیں۔ | اسی بارے میں لبنان پرحملے کا منصوبہ تھا: اولمرت09 March, 2007 | آس پاس یادگاری ریلی: لبنان میں کشیدگی14 February, 2007 | آس پاس لبنان میں افراتفری کے بعد ہڑتال ختم24 January, 2007 | آس پاس لبنان کو مزید امداد دینگے: امریکہ21 August, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||