مکمل رپورٹ جاری کرنے کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ڈیموکریٹس نے بش انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عراق جنگ کے اثرات سے متعلق اس رپورٹ کو مکمل طور پر جاری کیا جائے جس میں اخذ کیا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عراق پر مسلط کی گئی جنگ سے عالمی دہشتگردی کو تقویت ملی ہے۔ سینیٹرز کا کہنا ہے کہ منگل کو اس خفیہ رپورٹ کے جو حصے جاری کیئے گئے ہیں وہ امریکی عوام کی معلومات کے لیئے ناکافی ہیں۔ صدر جارج بش نے امریکی ذرائع ابلاغ میں اس رپورٹ کے افشا ہونے کے بعد اس کے کچھ حصے منگل کے روز جاری کیئے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے متن کے جو حصے جاری کیئے گئے ہیں وہ وائٹ ہاؤس کی ساکھ پر مثبت طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان حصوں میں کہا گیا ہے کہ عراق جنگ میں فتح دشمن کے لیئے زبردست دھچکا ثابت ہوگی۔ صدر بش کا کہنا ہے کہ جو لوگ اس خفیہ رپورٹ کے منکشف ہونے میں ملوث ہیں ان کا مقصد نومبر میں کانگریس انتخابات سے قبل امریکی عوام کو غلط راستہ دکھانا ہے۔ تاہم پاکستانی صدر پرویز مشرف نے اس تنازع کو اور ہوا دی ہے۔ انہوں نے سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ حال ہی میں جاری کی گئی ان کی کتاب میں انہوں نے جو بیان دیا ہے وہ اس پر اب بھی قائم ہیں کہ وہ حملے کے خلاف تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس سے دہشتگردی کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ’مجھے جو کہنا تھا میں نے کہہ دیا ہے۔ اس سے دنیا ایک مزید خطرناک جگہ بن گئی ہے‘۔
امریکی خفیہ رپورٹ (نیشنل انٹیلیجنس ایسٹی میٹ یا این آئی ای) میں امریکہ کی سولہ خفیہ ایجنسیوں کی آراء شامل کی گئی ہیں۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے جاری کردہ حصے دونوں فریقوں کے درمیان عراق سے متعلق مباحثوں میں گرمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈورڈ کینیڈی، ہلری کلنٹن اور کارل لیون کا کہنا ہے کہ عوام کو اس رپورٹ کے بارے میں مزید جاننے کا حق ہے۔ انہوں نے انتظامیہ پر رپورٹ کے صرف منتخب شدہ حصے جاری کرنے کا الزام لگایا ہے۔
سینیٹر کینیڈی نے کہا ’امریکی عوام کو مکمل صورتحال جاننے کا حق ہے، صرف وہ معلومات نہیں جو بش انتظامیہ چاہتی ہے کہ عوام جان سکیں۔ صدر بش کو مکمل رپورٹ جاری کرنی چاہیئے‘۔ انہوں نے بند دروازوں میں قومی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر کے ساتھ بریفنگ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ افشا ہونے والی اس خفیہ رپورٹ کے حصے سب سے پہلے اتوار کو نیویارک ٹائمز نے شائع کیئے تھے۔ منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر بش نے رپورٹ کے افشا ہونے کی مذمت کی اور اس پر تنقید کرنے والوں کو ’کم عقل‘ کہا۔ انہوں نے کہا کہ ’لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ ان عناصر کے خلاف کارروائیاں کرنے سے جو امریکہ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، امریکی عوام مزید غیر محفوظ ہوگئے ہیں‘۔ بش ماضی میں بھی ایسے خیالات کو رد کرتے ہیں اور یہ اصرار کرتے رہے ہیں کہ اسلامی شدت پسند عراق اور افغانستان جنگ سے بہت پہلے سے امریکہ سے نفرت کرتے ہیں۔ رپورٹ کے جاری کردہ حصوں میں القاعدہ کے خلاف کامیابیوں کی بھی تفصیل ہے۔ تاہم نامہ نگار کا کہنا ہے کہ رپورٹ سے حالات کی جو مکمل تصویر سامنے آتی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراق تنازع شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافے کا باعث ہے۔ نامہ نگار کے مطابق یہ رپورٹ انتخابات میں بش کے لیئے نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہے۔ |
اسی بارے میں عراق میں تشدد صدام دور سے زیادہ21 September, 2006 | آس پاس عراق: خواتین سمیت 44 ہلاک23 September, 2006 | آس پاس عراق:بم دھماکہ، دس ہلاک 33 زخمی 13 September, 2006 | آس پاس ’حالات نہ بدلے تو عراق ٹوٹ جائے گا‘19 September, 2006 | آس پاس عراقی صوبے ذی قار میں اقتدار منتقل21 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||