بیروت پر بمباری، متعدد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی بیروت پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری میں کم سے کم پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع مل رہی ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی لبنان پر اسرائیل نے مزید حملے شروع کیے جس میں جس میں بری، بحری اور فضائیہ حصہ لے رہی ہیں۔ ظائر کے نواح میں بیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے اور اسرائیل نے جنوبی لبنان کے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ مقامی وقت کے مطابق دس بجے رات کے بعد سے گھروں سہ باہر نہ نکلیں ورنہ ان کی جانیں جانے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس دوران اسرائیلی وزیراعظم ایہود المرت نے تمام یہودیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل سے یکجہتی کا مظاہرہ کریں کیونکے اسرائیل اپنی بقا کی بہیمانہ جنگ لڑ رہا ہے اور اس کی بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قیمت اس چکانہ بہتر ہے چہ جائیکہ انتظار کیا جائے اور حزب اللہ کو اور بہتر انداز سے مسلح ہونے کا موقع دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فرق یہ کہ اسرائیل شہری ہلاکتوں کو اپنی ناکامی تصور کرتا ہے جب کہ حزب اللہ اسے اپنی کامیابی تصور کرتا ہے۔ لبنان کے وزیراعظم فواد سینیورا نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان کے گاؤں حولا پر اسرائیلی حملے میں 40 نہیں ایک شخص ہلاک ہوا۔ اس سے قبل آج فواد سینیورا نے بیروت میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کے دوران کہا تھا کہ حولا پر اسرائیلی حملے میں 40 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ عرب لیگ کے اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے لبنانی وزیراعظم نے کہا تھا کہ ’ایک گھنٹے قبل حولا نامی گاؤں میں ایک خوفناک قتل عام ہوا ہے جس میں 40 شہداء دانستہ بمباری کا شکار ہوئے ہیں۔‘ حولا سے ملنے والی تازہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ جس عمارت پر اسرائیلی فوج نے بمباری کی تھی اس کے شیلٹر میں پچاس افراد زندہ پائے گئے ہیں۔ حولا پر حملہ ایک ایسے دن ہوا جس دن دوسرے اسرائیلی حملوں میں کم سے کم پندرہ افراد ہلاک ہوگئے۔ اس دوران عرب لیگ نے اپنا ایک وفد نیویارک بھیج دیا ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے وہاں زیربحث قراردادِ امن میں لبنان کی جانب سے جن ترامیم کا مطالبہ کیا گیا ہے ان کی حمایت کرے گا۔ وفد بھیجنے کا فیصلہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے پیر کے روز بیروت میں ہونے والے اپنے اجلاس میں کیا۔ ادھر امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ وہ قراردادِ امن پر لبنان اور حزب اللہ کے اعتراضات سے آگاہ ہیں اور فوری طور پر جنگ بندی کی قرارداد کی منظوری کے لیے کام کریں گے۔ امریکی صدر نے کہا: ’ہم سب یہ مانتے ہیں کہ تشدد فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔‘ لبنان پر اسرائیلی حملوں میں لبنانی حکومت کے مطابق گزشتہ ستائیس دنوں میں 1000 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ حزب اللہ سے لڑائی کے دوران اور اسرائیل پر حزب اللہ کے حملوں میں 90 سے زائد اسرائیلی مارے گئے ہیں جن میں بیشتر فوجی ہیں۔
توقع ہے کہ آج جب سلامتی کونسل امریکہ اور فرانس کی مشترکہ قرارداد پر بحث شروع کرےگی تو عرب لیگ کے مشترکہ اعلامیہ میں حکومتِ لبنان کے اس موقف کی بھر پور حمایت سامنے آ جائے گی کہ لبنان میں فوری جنگ بندی کی جائے اور اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج کا انخلاء بھی شروع ہو جائے اور یہ کہ جنگ بندی کی نگرانی اقوامِ متحدہ کے لبنان میں پہلے سے موجود امن د ستے اور لبنانی فوج اس وقت تک کرے جب تک نئی بین الاقوامی امن فوج کی تشکیل پر اتفاق نہ ہو جائے۔ دریں اثنا لبنان پر اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان پر متعدد حملے کیے ہیں جن میں چودہ لبنانی مارے گئے ہیں۔ لبنان کے تیسرے بڑے شہر سیدا کے قریب غسانیہ پر ہونے والے ایک اسرائیلی حملے میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے سات افراد مارے گئے ہیں۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں نشانہ بننے والی آبادیوں میں بعلبک بھی شامل ہے جبکہ اسرائیلی بمباری کے بعد طائر کا رابطہ باقی ملک سے کٹ گیا ہے۔ اسرائیلی طیاروں نے بیروت سے طائر جانے والی سڑک پر بمباری کر کے ملک کے شمالی علاقے سے شہر کا آخری رابطہ بھی منقطع کر دیا ہے۔ طائر کے اردگرد کئی مقامات پر بمباری کی اطلاعات ہیں۔ لبنان کے جنوبی قصبے حولا سے بھی اسرائیلی دستوں اور حزب اللہ جنگجوؤں کے مابین لڑائی کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے ٹی وی چینل العربیہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ بنتِ جبیل کے علاقے میں تین اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اتوار کو حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں بارہ فوجیوں سمیت پندرہ اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے جو کہ جھڑپوں کے آغاز کے بعد سے ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اسرائیلی جانی نقصان ہے۔ اس دوران اسرائیل کے نائب وزیراعظم شمعون پیریز نے یہ عندیہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل لبنان سے قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کے لیے آمادہ ہے۔ ہفتے کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کے اس مطالبے کو تو تسلیم نہیں کرے گا کہ پکڑے جانے والے دو فوجیوں کی رہائی کے بدلے ان لوگوں کو رہا کر دیا جائے جو اسرائیل کے علاقے میں داخلے کے بعد پکڑے گئے لیکن لبنانی حکومت سے اس معاملے پر بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔ |
اسی بارے میں لبنان: تازہ اسرائیلی حملے، شہری ہلاک07 August, 2006 | آس پاس لبنان مجوزہ قرارداد مستردکرتاہے:بیری06 August, 2006 | آس پاس فوجیوں سمیت 15 اسرائیلی ہلاک06 August, 2006 | آس پاس قرارداد توقعات پر پوری نہیں اتری06 August, 2006 | آس پاس متفقہ قرارداد میں ہفتوں لگ سکتے ہیں07 August, 2006 | آس پاس ’حالات ہمارے ہاتھ سے نکل چکے ہیں‘ 05 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ پسپا کیا ہے: حزب اللہ05 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||