بدترین خونریزی کا دن، رات کو پھر بمباری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کو لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بدترین دن کے بعد جس میں پچپن عام لبنانی ہلاک ہوئے، اسرائیل فضائیہ نے نصف شب کوایک مقام پر جسے وہ حزب اللہ کے رہنماؤں کی پناہ گاہ قرار دیتا ہے، تیس ٹن وزنی بم گرائے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے ٹیلی وژن کا دعوی ہے کہ تنظیم کا کوئی بھی رہنما ہلاک نہیں ہوا۔
ادھر لبنان کے وزیرِ اعظم فواد سینیورا نے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ ان کے ملک کو تباہی سے بچایا جائے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران اسرائیلی حملوں میں تین سو سے زیادہ افراد ہلاک اور پچاس ہزار بے گھر ہو گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کےہنگامی امداد کے کوآرڈینیٹر ژان ایگلینڈ نے کہا ہے کہ لبنان میں انسانی المیے میں ہر گزرتے ہوئے گھنٹے کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور یہ کہ نہ اسرائیل اور نہ حزب اللہ ہی عام لوگوں کو درد کو محسوس کر رہے ہیں۔ ژان ایگیلنڈ کے مطابق مرنے اور زخمی ہونے والوں میں ایک تہائی بچے ہیں اور زخمیوں کے لیئے طبی امداد پہنچانا ناممکن ہے کیونکہ اسرائیلی حملوں سے سڑکیں اور پل تباہ ہوگئے ہیں۔ دریں اثناء زبردست بمباری کے دوران غیر ملکیوں کو لبنان سے نکالنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ برطانیہ، امریکہ اور ناروے کے ایک ہزار سے قریب شہریوں کو بحری جہاز کے ذریعے قبرصں پہنچا دیا گیا ہے۔ تاہم اب بھی سینکڑوں غیر ملکی باشندے لبنان میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ اسرائیل نے ساحلی علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
یورپی یونین نے گزشتہ روز کے حملوں کو ’غیر متناسب‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ اب تک لبنا پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 280 لبنانی افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر عام شہری ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں 25 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے تیرہ عام شہری ہیں۔ حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں اسرائیل کے شمالی شہر حیفہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بدھ کے راکٹ حملوں میں چند لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل کے تازہ حملے دارالحکومت بیروت اور ملک کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر کیے جارہے ہیں۔ ان علاقوں میں کئی شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ بدھ کی صبح اسرائیلی فوج جنوبی سرحد پار کرکے’محدود اور نپے تلے‘ حملوں کی غرض سے لبنان میں داخل ہوگئی۔ فی الحال اس تشدد آمیزی میں کوئی کمی آتی دکھائی نہیں دے رہی۔ لبنان کے ہزاروں خوفزدہ مکین ملک چھوڑ کرجارہے ہیں۔
کئی ممالک نے لبنان سے اپنے شہریوں کے انخلاء کے لیئے بحری جہاز اور ہیلی کاپٹر بھیجے ہیں جبکہ ہزاروں افراد لبنان کی سرحد پار کرکے شام پہنچ گئے ہیں۔ لبنان میں ہزاروں مکانات اسرائیلی بمباری کی نذر ہوچکے ہیں۔ سینکڑوں یورپی باشندوں کو قبرص پہنچایا جاچکا ہے۔ ایک برطانوی بحری جہاز اپنے 180 باشندوں کو لے کر بیروت سے روانہ ہوگیا ہے۔ اگلے چند روز میں 5000 برطانوی شہریوں کا انخلاء متوقع ہے۔ امریکہ کا کہنا کہ اس کے تین سو سے زیادہ باشندوں کو نکالا جائے گا، اس کے بعد روزانہ ایک ہزار امریکیوں کو بحفاظت نکالا جائے گا۔
ناروے کا ایک بحری جہاز ناروے، سویڈن اور امریکہ کے سینکڑوں باشندوں کو پہلے ہی قبرص لے جاچکا ہے۔ مزید امریکیوں اور آسٹریلوی شہریوں کے انخلاء کے انتظامات مکمل ہیں۔ ل رکھے‘۔
اقوام متحدہ کی ٹیم جو چند روز سے علاقے میں تھی اب واپس نیویارک جارہی ہے تاکہ سیکرٹری جنرل کوفی عنان کو صورتحال پر بریفنگ دے سکے۔ کوفی عنان آج سکیورٹی کونسل سے خطاب کریں گے۔ اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں بھی فوجی کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی ٹینک بدھ کو غزہ کے پناہ گزین کیمپ میں داخل ہوگئے۔ اس کارروائی میں نو فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 45 سے زائد زخمی ہیں۔
|
اسی بارے میں تازہ اسرائیلی حملے، ’تئیس ہلاک‘ 16 July, 2006 | آس پاس حیفہ پر راکٹ حملے، نو ہلاک16 July, 2006 | آس پاس تباہی کے کچھ مناظر: وڈیو16 July, 2006 | آس پاس لبنان کے شمال اور مشرق میں حملے16 July, 2006 | آس پاس جنگ بندی کی اپیل پر عدم اتفاق16 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||